رسائی کے لنکس

ایودھیا میں مندر کی تعمیر، مودی نے ٹرسٹ کے قیام کا اعلان کر دیا

رام مندر کا مجوزہ ماڈل (فائل فوٹو)
رام مندر کا مجوزہ ماڈل (فائل فوٹو)

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایودھیا میں مندر کی تعمیر کی نگرانی کے لیے ٹرسٹ قائم کر رہی ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے 'ٹائمز آف انڈیا' کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کابینہ نے ایودھیا میں بھگوان رام کا مندر تعمیر کرنے کے لیے ٹرسٹ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

تین ماہ قبل نومبر 2019 میں بھارت کی سپریم کورٹ نے ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین ہندوؤں کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ مسلمانوں کو پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔

بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔ فیصلے کے مطابق بابری مسجد خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی تھی۔ جس جگہ یہ مسجد تعمیر کی گئی تھی وہاں مسلمانوں کی پہلے کوئی تعمیرات نہیں تھیں۔

ایودھیا کیس فیصلہ: بھارت کے کئی علاقوں میں جشن

ایودھیا کیس کا فیصلہ آنے پر کئی علاقوں میں ہندوؤں کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا
1/14 ایودھیا کیس کا فیصلہ آنے پر کئی علاقوں میں ہندوؤں کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا
ہندوؤں کی جانب سے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر مٹھائی بھی تقسیم کی گئی
2/14 ہندوؤں کی جانب سے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر مٹھائی بھی تقسیم کی گئی
کئی علاقوں میں لوگوں کی جانب سے جشن منانے کی کوشش کی گئی تاہم پولیس نے انہیں ان کے علاقوں تک محدود رکھنے کی کوشش کی
3/14 کئی علاقوں میں لوگوں کی جانب سے جشن منانے کی کوشش کی گئی تاہم پولیس نے انہیں ان کے علاقوں تک محدود رکھنے کی کوشش کی
کیس کا فیصلہ آنے سے قبل یو پی سمیت کئی علاقوں میں پہلے سے سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے۔
4/14 کیس کا فیصلہ آنے سے قبل یو پی سمیت کئی علاقوں میں پہلے سے سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے۔
بابری مسجد یا رام مندر کی تعمیر کے حوالے سے فیصلہ آنے کی خبر بھارت کے تمام اخبارات کی صفحہ اول کی شہہ سرخی تھی۔
5/14 بابری مسجد یا رام مندر کی تعمیر کے حوالے سے فیصلہ آنے کی خبر بھارت کے تمام اخبارات کی صفحہ اول کی شہہ سرخی تھی۔
ایودھیا میں حکومت نے پہلے سے ہی دفعہ 144 نافذ کی ہوئی ہے تاکہ امن عامہ کی صورت حال برقرار رہ سکے۔
6/14 ایودھیا میں حکومت نے پہلے سے ہی دفعہ 144 نافذ کی ہوئی ہے تاکہ امن عامہ کی صورت حال برقرار رہ سکے۔
کیس کا فیصلہ آنے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر بھی ہندو رہنماؤں سمیت مختلف طبقات کے افراد نے خوشی کا اظہار کیا۔
7/14 کیس کا فیصلہ آنے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر بھی ہندو رہنماؤں سمیت مختلف طبقات کے افراد نے خوشی کا اظہار کیا۔
اخبار فروشوں نے عام دنوں کے مقابلے میں اخبارات کی اضافہ کاپیاں اسٹالز پر رکھی تھیں کیونکہ عوام کی کیس کے حوالے سے جاننے کی دلچسپی بہت زیادہ ہے۔
8/14 اخبار فروشوں نے عام دنوں کے مقابلے میں اخبارات کی اضافہ کاپیاں اسٹالز پر رکھی تھیں کیونکہ عوام کی کیس کے حوالے سے جاننے کی دلچسپی بہت زیادہ ہے۔
کیس کا فیصلہ آنے سے قبل ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد سپریم کورٹ کے باہر پہنچ چکی تھی۔
9/14 کیس کا فیصلہ آنے سے قبل ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد سپریم کورٹ کے باہر پہنچ چکی تھی۔
فیصلہ حق میں آنے کے بعد وکلا کی جانب سے بھی بھر پور انداز سے خوشی کا اظہار کیا گیا۔
10/14 فیصلہ حق میں آنے کے بعد وکلا کی جانب سے بھی بھر پور انداز سے خوشی کا اظہار کیا گیا۔
ایودھیا میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مذہبی مقامات پر لوگوں کی آمد عام دنوں کے مقابلے میں کافی کم رہی۔
11/14 ایودھیا میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مذہبی مقامات پر لوگوں کی آمد عام دنوں کے مقابلے میں کافی کم رہی۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ رام مندر کی تعمیر کے حق میں آنے کے بعد ویشو ہندو پریشد سمیت کئی ہندو مذہبی جماعتوں کے کارکن خوش کا اظہار کرنے سڑکوں پر نکلے۔
12/14 سپریم کورٹ کا فیصلہ رام مندر کی تعمیر کے حق میں آنے کے بعد ویشو ہندو پریشد سمیت کئی ہندو مذہبی جماعتوں کے کارکن خوش کا اظہار کرنے سڑکوں پر نکلے۔
ریاستی حکومت نے امن عامہ کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے پولیس سمیت سادہ لباس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا تھا۔
13/14 ریاستی حکومت نے امن عامہ کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے پولیس سمیت سادہ لباس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا تھا۔
دارالحکومت دہلی میں جامع مسجد اور اطراف کے علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری صبح سویرے ہی پہنچ چکی تھی۔
14/14 دارالحکومت دہلی میں جامع مسجد اور اطراف کے علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری صبح سویرے ہی پہنچ چکی تھی۔
Previous slide
Next slide

عدالت نے حکم دیا تھا کہ سنی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لیے ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے۔ عدالت نے متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا حکم دیتے ہوئے مندر کی تعمیر کے لیے تین ماہ میں ٹرسٹ قائم کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔

عدالت نے فیصلے میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو منہدم کرنے کے اقدام کو بھی غیر قانونی قرار دیا تھا۔

'ٹائمز آف انڈیا' کے مطابق بدھ کو بھارت کی مرکزی کابینہ کا اجلاس ہواجس میں ٹرسٹ کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے اختتام کے فوری بعد وزیر اعظم نریندر مودی لوک سبھا پہنچے اور اس حوالے سے ایوان میں بیان دیا۔

نریندر مودی نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ رام مندر کی تعمیر کے لیے بنائے گئے ٹرسٹ کو شری رام جنم بھومی ترِتھ کیشترا نام دیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایودھیا معاملے پر اتر پردیش (یو پی) کی حکومت سے سنی وقف بورڈ کو پانچ ایکڑ زمین دینے کی بھی درخواست کی گئی جو کہ اس نے منظور کر لی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہم سب کو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی حمایت کرنی چاہیے۔

ٹرسٹ کے حوالے سے بعد ازاں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بتایا کہ شری رام ترتھ کیشترا کے ارکان کی تعداد 15 ہوگی۔ جن میں سے ایک دلت ہندو بھی شامل ہوگا۔

خیال رہے کہ دلت کو ہندوؤں کی سب سے نچلی ذاتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں رواں ہفتے ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی (آپ) کی اکثریتی حکومت قائم ہے۔ ایسے میں بی جے پی کی مرکزی حکومت کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کے لیے ٹرسٹ کے قیام کے اعلان کو بعض حلقوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ریاستی انتخابات سے قبل ایسے کسی اعلان کے لیے کمیشن کی منظوری یا اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

'ٹائمز آف انڈیا' کے مطابق الیکشن کمیشن کے بعض حکام کا کہنا ہے کہ اگر مرکزی حکومت کے لیے انتخابات ہو رہے ہوتے تو ایسے کسی بھی اعلان پر سوالات اٹھائے جا سکتے تھے۔

بھارتی خبر رساں ادارے 'انڈیا ٹو ڈے' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی سابقہ اتحادی جماعت شیو سینا نے حکومت کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ دوسری جانب ریاست مہاراشٹرا میں ریاستی حکومت میں شیو سینا کی اتحادی اور حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس نے اس اعلان کے وقت پر سوال اٹھایا ہے اور اسے نئی دہلی میں ہونے والے انتخابات سے جوڑا ہے۔

'انڈیا ٹوڈے' کے مطابق آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے ایوان میں نریندر مودی کے اعلان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم رام مندر کی تعمیر کے لیے ٹرسٹ کے قیام کا اعلان کسی انتخابی ریلی میں نہیں کر سکتے تھے اس لیے انہوں نے پارلیمان میں آ کر اس کا اعلان کیا۔

دوسری جانب تین دن بعد انتخابات کے حوالے نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال نے بی جے پی کے رہنما اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جہاں چاہیں مجھ سے مباحثہ کر لیں کہ دہلی کے شہری ان کی جماعت کو کیوں ووٹ دیں۔

اروند کیجری وال نے بی جے پی پر فرقہ وارانہ سیاست کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG