رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: ترمیم شدہ انسدادِ دہشت گردی قانون پر حکومت کو نوٹس


چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ اس قانونی ترمیم کے خلاف درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔(فائل فوٹو)

بھارت کی سپریم کورٹ نے ترمیم شدہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون یو اے پی اے​ کے سلسلے میں حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اس قانون کو عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

یو اے پی اے قانون حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی انفرادی شخص کو بھی دہشت گرد قرار دے سکتی ہے۔ اس سے قبل اس قانون کے تحت صرف تنظیموں کو ہی دہشت گرد قرار دیا جا سکتا تھا۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سِول رائٹس نے بھارت کی عدالتِ عظمیٰ میں اس قانون میں کی جانے والی ترمیم کو چیلنج کیا ہے اور اسے غیر آئینی قرار دینے کی درخواست کی ہے۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

حکومت نے رواں ہفتے منگل کو اس قانون کے تحت جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید، ان کے نائب ذکی الرّحمٰن لکھوی، جیش محمّد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر اور انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کو انفرادی دہشت گرد قرار دیا تھا۔

مذکورہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ترمیم شدہ ایکٹ شہریوں کے بنیادی حقوق اور ایک شخص کی عزت کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ قانون اختلافِ رائے کے حق پر بلا واسطہ پابندی عائد کرتا ہے جو کسی ترقی پذیر جمہوری معاشرے کے لیے تباہ کن ہے۔

بھارت کی ایک سیاسی جماعت ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کے پاس صرف تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کا حق تھا تو اس وقت متعدد بے قصور افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا جن کی کئی برس بعد ضمانت ممکن ہوئی۔

ان کے بقول اب حکومت کو افراد کو بھی دہشت گرد قرار دینے کا اختیار مل گیا ہے تو مزید بے قصور افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔ لہٰذا یہ ترمیم فوری طور پر واپس کرنے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ نے ترمیم شدہ قانون کے تحت کسی بھی انفرادی شخص کو دہشت گرد قرار دینے کے بھارتی حکومت کے اقدام کی حمایت کی ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اس قانونی ترمیم سے دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے امکانات وسیع ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اس مذکورہ ترمیم کو دو اگست کو منظور کیا گیا تھا جس کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اپوزیشن جماعتیں سخت مخالفت کر رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG