رسائی کے لنکس

logo-print

دہشتگردوں کی مالی معاونت کا الزام، پانچ کالعدم تنظیموں کے خلاف مقدمات درج


سی ٹی ڈی کے ترجمان کے بیان کے مطابق، کالعدم جماعت الدعوۃ، لشکر طیبہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کے الزام کے تحت 23 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے محکمہ انسداد دہشتگردی نے دہشتگردوں کی مالی معاونت کے الزام پر جماعت الدعوة سمیت پانچ کالعدم تنظیموں کے خلاف دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے ہیں۔

محکمے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، تنظیموں میں دعوة الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ، الانفال ٹرسٹ، المدینہ فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور الحمد ٹرسٹ کے نام بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں۔

ترجمان کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دیے گئے تمام ٹرسٹ کے نام پر رقوم اکٹھی کرنے کا الزام ہے، جس کا مبینہ مقصد دہشتگردی کو پروان چڑھانا بتایا جاتا ہے۔ ترجمان کے مطابق، اِن تنظیموں اور اِنکے سربراہوں کے خلاف صوبہ پنجاب کے تین شہروں میں مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان شامل ہیں۔

بقول ترجمان، "مقدمات میں حافظ محمد سعید، عبدالرحمٰن مکی، امیر حمزہ، ملک ظفر اقبال، محمد یحییٰ عزیز، محمد نعیم، محسن بلال، عبدالرقیب، ڈاکٹر احمد داؤد، ڈاکٹر محمد ایوب، عبداللہ عبید، محمد علی اور عبدالغفار سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان افراد پر ٹرسٹ کے نام پر دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے الزامات ہیں"۔

سی ٹی ڈی کے ترجمان نے بتایا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کل 23 مقدمات درج کیے گئے ہیں، جبکہ جماعت الدعوة، لشکر جھنگوی اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کے سربراہوں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق، اِن تنظیموں اور افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں یکم جنوری 2019ء کو نیشنل ایکشن پلان کے اجلاس میں دی گئی تھی۔

وائس آف امریکہ نے اِن مقدمات کے سلسلے میں جماعت الدعوة کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو اُن سے رابطہ نہیں ہو سکا، جماعت الدعوة کے مرکزی عہدیداروں نے اپنے ٹیلیٖفون نمبر بند کر رکھے ہیں۔

جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید کو حکومت پنجاب نے اِن دنوں 16 ایم پی او کے تحت نظر بند کر رکھا ہے۔ جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید کو پہلی مرتبہ پاکستان کے اندر کسی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ اِس سے قبل اُن کی تنظیموں پر پابندی لگتی رہی ہے۔

بین الاقوامی امور کی ماہر تجزیہ کار اور مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ سمجھتی ہیں کہ ایسی تنظیموں کے خلاف جب بھی کیس بنتے ہیں تو ثبوت مہیا نہیں ہوتے۔ ایف اے ٹی ایف اور امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ایسی تنظیموں کے خلاف شواہد کیوں نہیں پورے کیے جاتے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی عام شہریوں سے متعلق کم و بیش 17 شقوں پر تو عمل کیا ہے، لیکن دہشت گرد تنظیموں سے متعلق سات شقوں پر ابھی تک کوئی کام نہیں ہوا۔

ڈاکٹر عائشہ سمجھتی ہیں کہ صرف مقدمات بنا دینے سے کچھ نہیں ہو گا بلکہ شفاف تحقیقات ہونی چاہیے کہ ایسی تنظیمں کیسےبنیں اور اُن کے لیے رقوم کہاں سے آئیں۔ ڈاکٹر عائشہ کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم مستقبل میں اپنے امریکی دورے میں صدر ٹرمپ کے ساتھ امداد بڑھانے اور دیگر امور پر بات کریں گے۔

ان کے الفاظ میں، ’’عمران خان جب امریکہ جائییں گے تو ان کی سب سے بڑی چیز یہ ہو گی کہ وہ امریکی حکومت سے یہ درخواست کریں گے کہ جو پیسوں کی پابندی عائد ہو رہی ہے پاکستان پر، جو آئی ایم ایف کر رہا ہے، وہ ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے ختم کیا جائے‘‘۔

’’ظاہر ہے، عمران خان بتائیں گے کہ وہ ایسی تنظیموں کو ختم کرنا چاہتے ہیں، جس سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔ پوری دنیا کو بھی اِس بات سے مطلب ہے کہ پاکستان جو جہادیوں کو کب سے سپورٹ کر رہا ہے پاکستان بتائے گا کہ اب پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے۔ پاکستانی آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے دورہ انگلینڈ میں دبے لفظوں میں پیغام دیا ہے کہ وہ کمانڈر ہیں اور وہ کمان کرتے ہوئے تبدیلی لائیں گے۔ اس لیے اُن کی ایکسٹینشن کا بھی کیس بن سکے"۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار احمد ولید سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان تو کبھی بھی ایسی تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ لیکن، اب عالمی دباؤ اور ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے اُسے ایسا کرنا پڑ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت نے بھی عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان میں کچھ ایسی تنظیمیں اور افراد موجود ہیں جو دہشتگردی کو ہوا دیتی ہیں، جس کے بعد، کچھ مدرسوں کو سرکاری تحویل میں بھی لیا گیا اور چندہ اکٹھا کرنے پر بھی پابندی لگائی گئی۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے احمد ولید نے کہا کہ ’’یہ جو ایکشن حکومت لے رہی ہے بھلے یہ ایکشن نرم ہیں یا دکھاوے کے ہیں۔ لیکن اِس کے باوجود حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کی سرگرمیاں محدود ہوئی ہیں‘‘۔

"اگر تو پاکستان نے یہ پالیسی بنا لی اور طے کر لیا ہے کہ علاقائی ملکوں کے ساتھ تعلقات اچھے کرنے ہیں جیسا کہ حال ہی میں پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بیان دیا کہ علاقائی روابط (ریجنل کنیکٹویٹی) کو بڑھانا ہے۔ اِس کے بغیر معاشی ترقی نہیں ہو سکتی۔ تو لگتا ہے کہ پالیسی لیول پر کچھ ایسی باتیں ہو رہی ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ آہستہ آہستہ کرنا ہے یا یک دم سے کرنا ہے۔ اگر ایسی تنظیموں کے خلاف ایک دم سے کارروائی کی جائے تو اُس کا نتیجہ بڑا خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان نے عالمی برادری کو باور کرایا ہو کہ ایسی تنظیموں کے خلاف آہستہ آہستہ کارروائی کی جائے گی کیونکہ افغان جہاد کے بعد سے پاکستان کو مسئلہ درپیش ہے۔ ایسی تمام تنظیموں کے خلاف ایک دم سے کارروائی کرنا مشکل ہو گا"۔

پاکستان نے جماعت الدعوة اور اِس سے منسلک تنظیم فلاح انسانیت فاونڈیشن پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ حافظ سعید سے وابستہ ان دونوں تنظیموں کو گزشتہ سال نو فروری کو انسداد دہشت گردی ترمیمی آریڈیننس دو ہزار اٹھارہ کے تحت کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

پاکستان میں انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے گزشتہ ہفتے دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے کے جرم میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے بارہ افراد کو سزا سنائی ہیں۔ کالعدم جماعت جماعت الدعوة اور جیش محمد سے تعلق رکھنے والے اِن افراد کو سزائیں ایسے وقت میں سنائی گئی ہیں جب فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے دوہشتگروں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات کو ناکافی قرار دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG