رسائی کے لنکس

بھارت: مہاجر مزدوروں کے خلاف مقدمات واپس، گھر بھیجنے کا حکم


سپریم کورٹ کورٹ آف انڈیا (فائل فوٹو)

بھارت کی سپریم کورٹ نے کرونا وائرس لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے مرتکب مہاجر مزدوروں کے خلاف مقدمات ختم کر کے اُنہیں گھروں کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔

منگل کو بھارت کی سپریم کورٹ نے کرونا وائرس سے متعلقہ کیس کی سماعت کے دوران مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی کہ ایسے مزدوروں کی شناخت کر کے اُنہیں 15 دن کے اندر گھروں کو بھجوایا جائے۔

عدالت نے حکومت کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ایسے تمام مزدور جو اپنی آبائی ریاستوں میں پہنچ گئے ہیں۔ ان کی فہرست تیار کی جائے تاکہ ان کے لیے فلاحی اسکیموں کا تعین کیا جا سکا۔

عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ ان مزدوروں سے گھر واپسی کے لیے ٹرین یا بس کا کرایہ وصول نہ کیا جائے اور ان کے کھانے پینے کا بھی انتظام کیا جائے۔ جو مزدور اپنے کام کی جگہوں پر واپس جانے کے لیے تیار ہیں ان کی کونسلنگ کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے وزارتِ ریلوے کو ہدایت دی ہے کہ وہ مزدوروں کو ان کی آبائی ریاستوں میں بھیجنے کے لیے ریاستی حکومتوں کے مطالبے پر 24 گھنٹے کے اندر اضافی خصوصی ٹرینوں کا انتظام کرے۔

یاد رہے کہ بھارت میں لاک ڈاؤن کی بہت سی پابندیاں ختم ہونے کے بعد بہت سے کارخانے اور فیکٹریاں کھل گئی ہیں مگر ان میں کام کرنے والے مزدور نہیں ہیں۔ اسی طرح ریاست پنجاب میں کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی بھی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی ایم) کی رہنما برندا کرات نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت تاخیر سے آیا ہے۔ اُن کے بقول ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے لاکھوں مزدور مرد، عورتیں اور بچے سب کو مجبوری میں کئی کلو میٹر پیدل چلنا پڑا۔

ان کے مطابق تین چوتھائی مزدور تو اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں۔ اس لیے اگر عدالتی حکم پہلے آجاتا تو لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ مزدور اپنی جیب سے خرچہ کر کے اپنے گھروں کو پہنچے ہیں۔ لہٰذا کم از کم ان کے معاوضے کے لیے سپریم کورٹ کو کچھ سوچنا چاہیے تھا۔ حکومت کی شروع سے ہی جو غلط پالیسی رہی ہے اس پر بھی عدالت عظمیٰ نے کچھ نہیں کہا۔

گزشتہ سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ نے مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا تھا کہ تین جون تک 4,288 خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں جن سے 57 لاکھ مزدور اپنے گھر پہنچ گئے۔ اس کے علاوہ 41 لاکھ مزدور بذریعہ سڑک اپنے گھروں کو پہنچے ہیں اور اس طرح کل تعداد تقریباً ایک کروڑ کے لگ بھگ بنتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرینوں میں کھانا اور پانی کی کمی اور بدانتظامی کی وجہ سے متعدد افراد کی موت ہو گئی۔ البتہ حکومت ایسی خبروں کی تردید کرتی رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG