رسائی کے لنکس

logo-print

سونامی کے دس سال مکمل، دعائیہ تقاریب کا اہتمام


مسجد 'بیت الرحمٰن' کے خطیب اعلیٰ ازمان اسماعیل کے مطابق پانچ ہزار کے قریب مرد و خواتین مسجد میں دعائیہ تقریب میں شریک ہوئے اور یہ سلسلہ جمعہ کو دن بھر جاری رہے گا۔

بحر ہند میں آنے والی تباہ کن سونامی کو دس سال پورے ہونے پر مختلف ممالک میں اس قدرتی آفت میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

2004ء میں انڈونیشیا کے جزیرہ سماٹرا کے ساحلوں کے قریب بحر ہند میں زیر آب 9.1 شدت کے زلزلے سے اٹھنے والی سونامی سے انڈونیشیا، بھارت، سری لنکا اور تھائی لینڈ میں تباہی آئی اور دو لاکھ 26 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سونامی سے اٹھنے والی کئی میٹر بلند لہریں مشرقی افریقی ممالک تک گئیں اور وہاں بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنیں۔

انڈونیشیا کا باندا آچے نامی صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں کم از کم ایک لاکھ 68 ہزار ہلاک ہوئے اور آبادیاں تقریباً صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ لیکن یہاں واقع 135 سال پرانی ایک مسجد مکمل طور پر قائم رہی تھی۔ جہاں سونامی سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ تقریب میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

مسجد 'بیت الرحمٰن' کے خطیب اعلیٰ ازمان اسماعیل کے مطابق پانچ ہزار کے قریب مرد و خواتین مسجد میں دعائیہ تقریب میں شریک ہوئے اور یہ سلسلہ جمعہ کو دن بھر جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ گو کہ سونامی تباہی لے کر آئی لیکن اس سے صوبے میں برسوں تک جاری رہنے والے تنازعات کو ختم کرنے کی کوششوں کو فروغ ملا۔ " اب آچے میں کوئی کسی سے نہیں لڑتا۔"

XS
SM
MD
LG