رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: فوجی طیارہ رہائشی علاقے میں گر کر تباہ، درجنوں ہلاک


حکام کے مطابق طیارے پر 113 افراد سوار تھے لیکن تاحال یہ معلوم نہیں کہ طیارہ شہری علاقے میں گرنے سے زمین پر کتنے لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے۔

انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے رہائشی علاقے میں ایک فوجی مال بردار طیارہ گرنے سے 100 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

حادثہ منگل کو سماٹرا میں واقع انڈونیشیا کے تیسرے بڑے شہر میدان میں پیش آیا جہاں 'ہرکولیس سی۔130' طیارہ اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد ہی قریبی آبادی میں ایک ہوٹل اور دو گھروں سے جا ٹکرایا تھا۔

انڈونیشی فضائیہ کے ایئر مارشکل اگوس سپریانتا نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ طیارے پر 113 افراد سوار تھے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہے۔

ایئر مارشل نے بتایا کہ طیارے پر فوجیوں کے اہلِ خانہ بھی سوار تھے۔ حکام کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ طیارے کے گرنے سے زمین پر موجود کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بعض عینی شاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عمارتوں سے ٹکرانے سے چند لمحے قبل طیارے سے آگ اور سیاہ دھواں نکلتے ہوئے دیکھا تھا۔

جائے حادثہ کے نزدیک واقع ایک اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق اب تک 55 لاشیں اسپتال منتقل کی جاچکی ہیں۔

انڈونیشیا کے ٹیلی ویژن چینلز پر دکھائے جانے والے مناظر میں گھروں اور ہوٹلوں کی عمارتوں کو شعلوں اور دھویں کی لپیٹ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تکنیکی خرابی کے باعث پائلٹ نے حادثے سے قبل واپس ہوائی اڈے پر اترنے کے لیے کہا تھا لیکن اسے اس کی مہلت نہیں مل سکی۔

حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ تقریباً نصف صدی پرانا تھا۔ حکام کے مطابق طیارے نے میدان کے ایک ایئر فورس مرکز سے پرواز بھری تھی اور اس کی منزل جزیرہ ریاؤ تھی۔

انڈونیشی ایئر فورس کے زیرِ استعمال سی-130 طیاروں کو پیش آنے والا یہ چوتھا حادثہ ہے۔ ایئر فورس کے ترجمان دوئی بدرمنتو نے کہا ہے کہ تاحال حادثے کی وجوہات کا علم نہیں ہوسکا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک فضائیہ کے زیرِ استعمال دیگر آٹھ 'سی -130' طیاروں کی پرواز پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

فضائی حادثات کا ڈیٹا جمع کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران انڈونیشیا میں 10 مہلک فضائی حادثے ہو چکے ہیں جن میں فوجی طیاروں کو پیش آنے والے حادثات بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG