رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، تین 'عسکریت پسند' ہلاک


نیشنل پولیس کے ترجمان کے مطابق مشتبہ عسکریت پسندوں نے پولیس اہلکاروں پر بارود پھینکا اور فائرنگ کی۔ اس علاقے سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جس کی اطلاع پر یہ کارروائی کی گئی۔

انڈونیشیا کی پولیس نے بدھ کو ایسے تین مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بتایا ہے جو تعطیلات کے دوران خودکش بم حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

یہ کارروائی جکارتہ کے مضافات میں کی گئی جو کہ دو ہفتوں سے بھی کم وقت میں ناکام بنایا جانے والا دوسرا دہشت گرد منصوبہ تھا۔

جکارتہ پولیس کے سربراہ محمد اریوان کا کہنا تھا کہ ایک رہائشی علاقے میں ایک گھر سے متعدد بم برآمد ہونے پر علاقے کو خالی کروا لیا گیا۔ یہ گھر ان مشتبہ عسکریت پسندوں کے زیر استعمال تھا۔

ان کے بقول بم ناکارہ بنانے والے عملے نے دو بم ناکارہ بنا دیے جب کہ اب بھی اہلکار اس گھر میں موجود ہیں۔

اریوان کا کہنا تھا کہ مشتبہ عسکریت پسند مبینہ طور پر کرسمس کے موقع پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جس میں ان کے بقول حملہ آوروں نے کسی پولیس افسر کو چاقو کے وار کر کے لوگوں کی توجہ حاصل کرنی تھی اور پھر مبینہ طور پر یہاں خودکش دھماکا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

کارروائی کے بارے میں بتایا گیا کہ ان تینوں افراد نے پولیس کی طرف سے انتباہ کے باوجود خود کو حوالے کرنے سے انکار کیا۔

نیشنل پولیس کے ترجمان کے مطابق مشتبہ عسکریت پسندوں نے پولیس اہلکاروں پر بارود پھینکا اور فائرنگ کی۔ اس علاقے سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جس کی اطلاع پر یہ کارروائی کی گئی۔

انڈونیشیا دنیا میں مسلم آبادی والا سب سے بڑا ملک ہے جو کہ 2002ء میں بالی بم دھماکوں کے بعد سے انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرتا آرہا ہے۔

اس ملک میں سرگرم عسکریت پسندوں نے شدت پسند تنظیم داعش سے وفاداری کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG