رسائی کے لنکس

انڈونیشیا: دور دراز دیہات میں تعلیم کا فروغ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایک نئی دستاویزی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ وہاں کے اصلی باشندوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے تعلیم کس طرح سے اُنھیں فائدہ پہنچا رہی ہے۔اُنیںا پڑھنے لکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ باہر سے آنے والوں کے مقابلے میں خود کو کس طرح منظم کرنا ہے

انڈونیشیا کے ایک دور دراز جنگل میں ایک اسکول واقع ہے۔ اِس کے بارے میں ایک نئی دستاویزی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ وہاں کے اصلی باشندوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے تعلیم کس طرح سے اُنھیں فائدہ پہنچا رہی ہے۔اُنھیں پڑھنے لکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ باہر سے آنے والوں کے مقابلے میں خود کو کس طرح منظم کرنا ہے۔

ڈاکیومنٹری کا ٹائٹل ’گرو رمبا ‘ہے جس کے معنی جنگل کا ٹیچر ہے،جو انڈونیشیا کے جزیرے سماترا کے جنگلات میں واقع ایک انوکھے اسکول ٹیچر اور طالب علموں کے پروفائل پر مبنی ہے۔

یہ فلم ایک ایسے ٹیچر کی کہانی سے شروع ہوتی ہے جو ایک مشکل سفر طے کرکے اس کلاس روم تک پہنچتی ہےاور پھر اُسکی توجہ اسکول میں رہنے والے بچوں کی زندگی کی جانب مبذول ہو جاتی ہے۔فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سے یہ طلبا آناک دالم قبیلے کے تین ہزار کے قریب ’اونگ رمبا‘ یعنی جنگل کے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں کہ وہ اپنی زمین کی حفاظت کرسکیں۔

فلمساز ویویان ادریس نے اس جنگل میں کئی ہفتے گزارے ۔ مگر اُنھیں ا سکول میں بچوں کی فلم بندی کی کم ہی اجازت ملی ۔

ویویان ادریس کہتے ہیں کہ، ’میرے لیے سب سے اہم بات اُنکی سوسائٹی کا حصہ بننا ہے۔یعنی ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا،سونا اورکھانا ۔

ادریس کا کہنا تھا کہ اُنھیں زیادہ تر خواتین کی فلم بندی سے منع کیا گیا ۔ وہاں لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت نہیں جو اُن کے دیہاتوں سے دور واقع ہے۔ یہ سکول دس برس قبل ماہر ِعمرانیات، بیوتت منو رنگ نے بنایا تھا۔

منورنگ کہتے ہیں کہ وہاں کے باشندوں کے شکوک وشبہات دور کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا۔

اُن کے الفاظ میں ’اُنھیں پینسل تک پکڑنا نہیں آتی تھی۔ وہ سوچتے تھے کہ یہ کوئی برائی ہے، کیونکہ جب کبھی وہ اپنا سامان بیچنے کے لیے بازار جاتے، تو لوگ ہمیشہ قلم لے کر بیٹھ جاتے اور گنتی کرتے، اور وہ ایسی رقم بتاتے جو اُنھیں پسند نہیں آتی تھی ۔

علاقے کے اصلی باشندے ایک مخصوص نیشنل پارک میں رہتے ہیں اور وہ ماحولیات کے سرگرم کارکنوں اور تعمیراتی کام کرنے والوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ماحولیات سے متعلق کارکن اُنھیں شکار اور ماہی گیری سے منع کرتے ہیں جبکہ تعمیراتی کام کرنے والے ہر سال دس کروڑ ہیکٹر پر پھیلے ہوئے انڈونیشیا کے جنگلات کو تباہ کر رہے ہیں۔وہ وہاں منافع بخش پام تیل کی کاشت کرنا چاہتے ہیں۔

پنگادم، جو اِس اسکول کے ایک بیس سالہ طالب علم ہیں، اِن قبائلیوں کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے اُن کی مدد کر رہے ہیں۔

پنگادم کے الفاظ میں: ’یہ نیشنل پارک محکمہ جنگلات نے اِن قبائلیوں کی رائے پوچھے بغیر بنایا ہے۔ اور جنگل کے یہ باسی ادھر ادھر بکھر سکتے ہیں۔‘

پنگادم کا کہنا ہے کہ اِس اسکول نے ’اورنگ رمبا‘ یعنی جنگل کے لوگوں کو تعلیم سے روشناس کرایا ہےاور اُنھیں اپنے حقوق کےلیے آوازبلند کرنے کی ہمت دی ہے۔ اُنھیں امید ہے کہ اِس ڈاکیومنٹری کی بدولت دنیا کو اُن کی کہانی جاننے کا موقع ملے گا۔

XS
SM
MD
LG