رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: 2009ء دہشت گرد حملوں کے مقدمے کی سماعت


انڈونیشیا میں اس اسلام پرست عسکریت پسند کے خلاف بدھ کے روز دارلحکومت جکارتا میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی جس پر دو بڑے ہوٹلوں پر مہلک بم دھماکوں میں حصہ لینے کا الزام ہے۔

عامر عبداللہ کو 17 جولائی 2009ء کو جکارتا کے ہوٹلوں رٹز کارلٹن اور جے ڈبلیو میریٹ میں بم دھماکوں کے سلسلے میں دہشت گردی سے منسلک متعدد الزامات کا سامناہے۔ ان حملوں میں سات افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔


استغاثہ نے عبداللہ پر القاعدہ سے منسلک اس دہشت گرد گروپ کا رکن ہونے کاالزام عائد کیا ہے ، جس کی قیادت نورالدین ٹاپ کے پاس تھی، جو 2004ء میں آسٹریلیا کے سفارت خانے پر بم دھماکے سمیت انڈونیشیا میں کئی مہلک حملوں سے منسلک رہاہے۔

عبداللہ پر انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بمبانگ یودھو یونو کو ہلاک کرنے کے ایک سازش میں حصہ لینے کا الزام بھی عائد ہے۔ ملائیشیا نژاد ٹاپ گذشتہ ستمبر میں ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا اور اس کے بہت سے ساتھی 2009ء میں دونوں ہوٹلوں پر بم دھماکوں کے بعد سے یا تو ہلاک یا پھر گرفتار ہوچکے ہیں۔


ٹاپ کسی زمانے میں عسکریت پسند گروپ جماعہ اسلامیہ سے منسلک تھا جس پر بالی کے تفریحی جزیر ے میں 2002ء کے اس بم دھماکے کا الزام عائد کیا گیاتھا جس میں 202 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG