رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: بالی بم دھماکوں کے مقدمے کا فیصلہ جلد متوقع


انڈونیشیا کی ایک عدالت 2002ء میں تفریحی مقام بالی کے حملے میں ملوث ایک اسلامی عسکریت پسند کو، جس پر دھماکوں میں استعمال کیےٴ جانے والے کار بم تیار کرنے کاالزام ہے، جلد سزا سنانے والی ہے۔

ان دھماکوں میں 202 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔

پراسیکیوٹرز نے عدالت سے عسکریت پسند عمر پاتک کوسزائے موت کی بجائے عمر قید دینے کی استدعا کی ہے، جو ساحلی تفریح گاہ پر کیے جانے والے ان دھماکوں پر پہلے ہی معافی مانگ چکاہے۔

انڈونیشیا کا میڈیا، پاتک کو تباہی پھیلانے والے انسان کے نام سے موسوم کرتا ہے۔ وہ القاعدہ سے منسلک ایک نیٹ ورک جامع اسلامیہ کا ایک سرکردہ راہنما تھا۔

اسے گذشتہ سال پاکستان کے ایک شمال مغربی شہر ایبٹ آباد سے گرفتار کیاگیاتھا۔

اسی شہر میں القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن بھی امریکی خصوصی فورس کی ایک خفیہ کارروائی میں مارا گیاتھا۔

پاتک پر ہلاکتوں کی منصوبہ بندی کرنے سمیت متعدد دوسرے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں بم تیار کرنا، غیر قانونی آتشیں مواد اپنے قبضے میں رکھنا بھی شامل ہیں۔

انہیں 2000ء میں جکارتہ کے ایک گرجا گھر میں کرسمس کی ایک تقریب پر مہلک حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG