رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: آتش فشاں پہاڑ لاوا اگلنے لگا، 14 افراد ہلاک


پہاڑ سے دھماکوں کی آوازیں آرہی ہیں اور مسلسل راکھ نکل رہی ہے جس نے ارد گرد ساڑھے چار کلومیٹر تک موجود دیہات، درختوں اور کھیتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

انڈونیشیا کے مغربی جزیرے سماٹرا میں موجود ایک آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے اور لاوا اگلنے سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق 'سینا بنگ' نامی پہاڑ گزشتہ کئی ماہ سے راکھ اور دھواں اگل رہا تھا جس کے پیشِ نظر چار ماہ قبل پہاڑ کے پانچ کلومیٹر کے دائرے کو 'انتہائی خطرناک علاقہ" قرار دیتے ہوئے وہاں سے آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا تھا۔

تاہم پہاڑ سے راکھ اور دھواں نکلنے میں واضح کمی آنے کے بعد حکومت نے 'خطرناک' قرار دیے جانے والے علاقے سے متصل آبادیوں کے لگ بھگ 14 ہزار افراد کو گزشتہ روز دوبارہ اپنے گھروں کو لوٹنے کی اجازت دیدی تھی۔

حکام کے مطابق ہفتے کی صبح پہاڑ نے اچانک لاوا اگلنا شروع کردیا جس سے علاقے میں اب تک 14 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔

علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ایک فوجی افسر نے امریکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ اب بھی کئی لوگ لاپتہ ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ہفتے کی صبح لاوا نکلنے کے بعدسے پہاڑ سے دھماکوں کی آوازیں آرہی ہیں اور مسلسل راکھ نکل رہی ہے جس نے ارد گرد ساڑھے چار کلومیٹر تک موجود دیہات، درختوں اور کھیتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

پہاڑ سے راکھ اور لاوا نکلنے کےبعد علاقے سے نقل مکانی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے اور مہاجرین کی تعداد 30 ہزار تک جا پہنچی ہے۔

انڈونیشی حکام کے مطابق 'سینا بنگ' انڈونیشیا میں موجود ان 130 آتش فشاں پہاڑوں میں سے ایک ہے جنہیں سائنس دان 'متحرک' قرار دیتے ہیں اور جن سے لاوا، آتش فشانی راکھ وار دھویں کے بادل نکلنے کا سلسلہ کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے۔

'سینا بنگ'نے اس سے قبل اگست 2010ء میں لاوا اگلا تھا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور 30 ہزار بے گھر ہوگئے تھے۔ اس سے قبل یہ پہاڑ چار صدیوں تک خاموش رہا تھا اور 2010ء میں لاوے کے اخراج نے سائنس دانوں کو حیران کردیا تھا۔
XS
SM
MD
LG