رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا: افغانستان میں جنگی جرائم میں ملوث 19 اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا عندیہ


فائل فوٹو

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ فوج کے موجودہ اور سابقہ 19 اہلکاروں کے خلاف افغانستان میں 39 افراد کے قتل کے مقدمات چلانے کی سفارش کی جائے گی۔ قتل کیے جانے والے یہ افغان شہری یا تو غیر مسلح تھے یا ان کو حراست میں لیا جا چکا تھا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق آسٹریلیا کی افغانستان میں موجود اسپیشل فورسز کے کے اہلکاروں کی 2005 سے 2016 کے درمیان کارروائیوں سے متعلق تحقیقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے جنرل انگوس جان کیمبل کا کہنا تھا کہ ایسی مصدقہ معلومات موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں اسپیشل فورسز کے اہلکاروں نے 23 مختلف واقعات میں غیر قانونی طور پر 39 افراد کو قتل کیا ہے۔

جنرل انگوس جان کیمبل کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام ہلاکتیں جنگ کے میدان سے باہر ہوئی تھیں۔

کینبرا میں صحافیوں سے گفتگو میں جنرل انگوس جان کیمبل نے کہا کہ تحقیقات کے سامنے آنے والے نتائج فوج کے ضابطہ کار اور پیشہ ورانہ اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عام شہریوں اور قیدیوں کی غیر قانونی طور پر ہلاکتیں قابلِ قبول نہیں ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد جن میں قیدی، کسان اور دیگر افغان شہری شامل تھے، کو قتل کرنے سے قبل حراست میں لیا گیا تھا۔ جب کہ ان زیرِ حراست افراد کو بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ حاصل تھا۔

انٹرنیشنل کرمنل کورٹ اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان سخت اختلاف
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:25 0:00

آسٹریلیا کی وزیرِ دفاع لینڈا رینالڈس کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ مقامی سطح پر قانونی کارروائی سے ممکنہ طور پر یہ معاملہ ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت میں جانے سے رک سکتا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن افغانستان میں فورسز کے ضابطۂ کار کے حوالے سے مرتب ہونے والی رپورٹ پر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ آسٹریلیا کے شہریوں کے لیے ایک مشکل اور سخت خبر ہو گی۔

اس رپورٹ کی گہرائی سے نظرِ ثانی کی گئی ہے۔ اور اس میں یہ شامل تھا کہ اسپیشل فورسز کے اعلیٰ حکام نے غیر مسلح افراد کے قتل کے احکامات دیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ایسی مصدقہ معلومات موجود ہیں کہ نچلے درجے کے اہلکاروں کو پیٹرول کمانڈرز سے قیدیوں کو قتل کرنے کے احکامات ملے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جب کوئی شخص قتل کر دیا جاتا تھا تو اس ہلاکت کا جواز دینے کے لیے لڑائی کا ایک جعلی سین بنایا جاتا تھا اور اس میں غیر ملکی ہتھیار یا دیگر آلات کا استعمال کیا جاتا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ معلومات فوری طور پر اس لیے سامنے نہیں آسکی تھیں۔ کیوں کہ گشت کے دوران معلومات خفیہ رکھنے کی روایت ہے جب کہ یہ معلومات ایک ساتھ سامنے نہیں آتی بلکہ مختلف ٹکڑوں میں جمع کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ اگر قانونی کارروائی میں کامیابی نہیں بھی ملتی۔ تب بھی متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جانی چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے افغان صدر اشرف غنی سے رپورٹ پر بات کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG