رسائی کے لنکس

جے آئی ٹی کے رکن کا فیس بک اکاؤنٹ ہیک نہیں کیا: آئی بی


تحقیقاتی ٹیم جوڈیشل اکیڈمی میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کے ایک اہم سول انٹیلی جنس ادارے نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے غیر ملکی اثاثوں اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ وہ اس ٹیم کے ارکان کو ہراساں کر رہا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے سپریم کورٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا کہ انٹیلی جنس بیورو نے مبینہ طور پر اس کے ایک رکن بلال رسول کا فیس بک اکاؤنٹ ہیک کیا جب کہ دیگر چار مختلف ادارے بھی ٹیم کے کام پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان نے عدالت عظمیٰ کو تحریری طور پر بتایا کہ ان کا ادارہ قومی اہمیت کے معاملات میں معلومات جمع کرتا ہے اور ٹیم کے ارکان سے متعلق بھی معمول کے مطابق معلومات جمع کی گئیں۔ لیکن ٹیم کے رکن کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کرنے کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔

وزیراعظم کے بڑے صاحبزادے حسین نواز مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان کی غیرجانبداری پر اپنے تحفظات کو عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کر چکے ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے باوجود حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی طرف سے تحقیقاتی ٹیم پر قانون کے منافی طریقہ کار اپنانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔

دوسری طرف تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ وزارت قانون، سکیورٹی ایکسچینج کمیشن، نیب، فیڈرل بیورو آف ریونیو اور انٹیلی جنس بیورو ان کے کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

دیگر اداروں کی طرف سے ان الزامات کو مسترد کیا جا چکا ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے آٹھ مئی کو اپنا کام شروع کیا تھا اور اسے 60 روز میں تحقیقات مکمل کر کے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کرنی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سامنے گزشتہ ہفتے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف بھی پیش ہو چکے ہیں جب کہ اس سے قبل وزیراعظم کے دونوں بیٹے حسین اور حسن نواز بھی ٹیم کے روبرو پوچھ گچھ کا سامنا کر چکے ہیں۔

حزب مخالف خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کا الزام ہے کہ حکومت تحقیقاتی ٹیم کے کام میں رخنہ اندازی کر رہی ہے اور اسی بنا پر وہ یہ مطالبہ کرتی رہی کہ وزیراعظم کو تحقیقات مکمل ہونے تک مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔

لیکن حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ حزب مخالف اس سارے معاملے پر شروع ہی سے سیاست کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG