رسائی کے لنکس

ہونہار کم سن پاکستانی طالب علم کا 'شاندار' کارنامہ


شہیر نیازی (فائل فوٹو)

ایک پاکستانی طالب علم نے فزکس کے میدان میں تحقیق کرکے سائنسدانوں کو نئی راہ دکھا دی ہے۔ لاہورکے شہيرنيازی نے سولہ سال کی عمرميں تحقيقاتی مقالہ لکھا ہے جو بين الاقوامي سطح پر بھي خوب پذيرائی حاصل کررہا ہے۔

شہیر نیازی پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے لاکاس اسکول میں اے لیول کے طالبعلم ہیں۔ انھوں نے تحقیق کی کہ اگر تيل پربجلی گرے تواس ميں شہد کي مکھی کے چھتے جيسی اشکال بن جاتی ہيں۔

دنيا بھرکے سائنسدانوں کی تحقيق يہيں تمام ہوجاتی تھی۔ پاکستانی طالب علم شہيرنيازی نے اس ميدان ميں قدم رکھا تو تيل پر بجلی گرنے کے بعد درجہ حرارت کو ريکارڈ کرليا۔ کم عمری ميں ان کا يہ تحقيقی مقالہ بڑے بڑے سائنسدانوں کے ليے حيران کن ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے شہیر نے بتایا کہ ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ وہ سولہ سال کی عمر میں تحقیقاتی مقالہ لکھیں۔ شہیر نے بتایا کہ جب پہلی بار انھوں نے یہ مکالہ چھپنے کے لیے دیا تو یہ رد کر دیا گیا۔

"آئل پر بجلي گزرے تو اس ميں ہيٹ کا اثر ہوتا ہے اور ميں نے فوٹو گرافک ميتھڈ سے اس کي تصوير بھی بنائی ہے۔"

شہیر کی والدہ اپنے بیٹے کی اس کامیابی پر بہت خوش ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہ شہیر اپنی پڑھائی اور فزکس سے متعلق ایسے سوالات کیا کرتا تھا جس کا جواب ان کے پاس نہیں ہوتا تھا۔

"نيوٹن نے سترہ سال کی عمر ميں مقالہ لکھا تھا، جب ان کا مقالہ رائل سوسائٹی میں چھپ گیا تو ميں نے اسے کہا کہ تم انہيں اپنا آئيڈيل بناؤ۔"

شہيرنيازی فزکس کے عالمي مقابلے ميں بھي شرکت کرچکے ہیں اور مزيد تجربات کرکے اپنی صلاحيتوں کا لوہا منوانے کے لئے پرعزم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG