رسائی کے لنکس

امریکہ نے بھی آئی ایم ایف سے عارضی سربراہ کی تقرری کا مطالبہ کردیا


نیو یارک کی وہ جیل اور اسکے متعلق معلومات جہاں اسٹراس کان کو قید رکھا گیا ہے۔

امریکی سیکریٹری خزانہ ٹموتھی گیتھنر نے 'انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ' پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے سربراہ ڈومینک اسٹراس کوہن کی نیویارک پولیس کی تحویل میں موجودگی کے باعث ادارے کے عارضی سربراہ کا تقرر عمل میں لائے۔

فرانس سے تعلق رکھنے والے آئی ایم ایف کے سربراہ کو گزشتہ ہفتے نیویارک کے ایک ہوٹل کی ملازمہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اسٹراس کوہن نے خود پر عائد کردہ الزام کی تردید کی ہے۔

امریکہ نے بھی آئی ایم ایف سے عارضی سربراہ کی تقرری کا مطالبہ کردیا
امریکہ نے بھی آئی ایم ایف سے عارضی سربراہ کی تقرری کا مطالبہ کردیا

اسٹراس کوہن کی گرفتاری کے بعد سے کئی ممالک کے وزرائے خزانہ عالمی ادارے کے عارضی سربراہ کے تقرر کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔

اس سے قبل آسٹریا کی وزیرِ خزانہ ماریہ فیکٹر نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی ساکھ کو مزید نقصان سے بچانے کیلیے اسٹراس کوہن کو اپنے عہدہ سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ ہسپانوی وزیرِ خزانہ ایلینا سلگاڈو نے بھی اپنے ایک بیان میں اسٹراس کوہن کی مبینہ دست درازی کا نشانہ بننے والی خاتون سے اظہارِ ہمدری کیا تھا۔

دنیا کی دو تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں چین اور برازیل کے حکام نے تجویز دی ہے کہ آئی ایم ایف کے اگلے سربراہ کا تعلق کسی غیر یورپی ملک سے ہونا چاہیے۔

ادھر جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل نے کہا ہے کہ عالمی رہنمائوں کو اسٹراس کوہن کے متعلق فیصلہ صادر کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے سربراہ کی جگہ سنبھالنے کیلیے یورپ میں کئی اچھے امیدواران موجود ہیں۔

اسٹراس کوہن کو نیویارک کے ایک قیدخانے میں رکھا گیا ہے جہاں حکام ان کی جانب سے خودکشی کے ممکنہ اقدام کے تدارک کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس سے قبل ایک مقامی عدالت نے آئی ایم ایف کے سربراہ کی جانب سے دائر کردہ ضمانت پر رہائی کی اپیل یہ کہہ کر خارج کردی تھی کہ ملزم مقدمہ کی کاروائی سے بچنے کیلیے فرار ہوسکتا ہے۔

اسٹراس کوہن کی عدالت کے روبرو اگلی پیشی جمعہ کے روز ہوگی۔

آئی ایم ایف کے سربراہ کے خلاف اس سے قبل بھی مذکورہ نوعیت کے کئی الزامات سامنے آچکے ہیں۔ 2008ء میں انہوں نے اپنی ایک ماتحت کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے پر - جس کا سبب انہوں نے 'فیصلہ کی غلطی' قرار دیا تھا- اعلانیہ معافی طلب کی تھی۔

دریں اثناء فرانسیسی مصنف ٹرسٹین بینن کی ایک خاتون وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹراس کوہن نے انہیں 2002ء میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس پر وہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتی ہیں۔

میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق اسٹراس کوہن فرانس کا آئندہ صدارتی انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے تھے اور حالیہ الزامات کے سامنے آنے اورفرانسیسی اخبارات میں ان کی ہتھکڑی لگی تصاویر کی اشاعت کے بعد ان کی ان کوششوں کا سخت دھچکا لگا ہے۔

XS
SM
MD
LG