رسائی کے لنکس

امریکی نائب وزیرِ خارجہ کی پاکستانی حکام سے ملاقات


واضح رہے کہ ایلس ویلز کا خطے کا یہ پہلا دورہ ہے جو 30 جولائی سے شروع ہوا اور آٹھ اگست تک جاری رہے گا. اپنے اس دورے کے دوران وہ نئی دہلی بھی جائیں گی۔

امریکہ کی قائم مقام نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ایلس ویلز نے جمعرات کو پاکستان کی سیکرٹری خارجہ سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے۔

سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ایلس ویلز کی وزارت خارجہ میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وفد کو خطے کو درپیش چینلجوں بشمول افغانستان میں سلامتی کی صورت حال سے متعلق پاکستان کے نقطہٴ نظر سے آگاہ کیا گیا۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکرٹری خارجہ نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی صورت حال اور اس کے خطے میں امن و سلامتی پر اثرات کے بارے میں بھی امریکی وفد کی توجہ دلائی۔

ایلس ویلز کو یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط شراکت داری اہم ہے۔

وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات
وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات

بیان میں امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا کے حوالے سے کہا گیا ہےکہ اُنھوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط شراکت داری کی اہمیت سے بھی اتفاق کیا۔

آنے والے سالوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے اس کے بارے میں بھی ایلس ویلز نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ ایلس ویلز یہ دورہ ایسے وقت کر رہی ہیں جب صدر ٹرمپ کی انتظامیہ افغانستان اور خطے سے متعلق اپنی نئی حکمت عملی کی تیاری میں مصروف ہے۔

نفیس ذکریا نے کہا کہ ’’ہم اسے ایک اہم دورہ سمجھتے ہیں‘‘ جس میں، اُن کے بقول، تمام دوطرفہ معاملات بشمول افغانستان اور خطے سے متعلق اُمور کے بارے میں پاکستان کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملا۔

ایلس ویلز سے ملاقات میں تہمینہ جنجوعہ نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ امریکہ کے جاری جائزے کے نتیجے میں افغانستان اور خطے میں امن و مصالحت کے فروغ کے لیے ایک جامعہ سیاسی حکمتِ عملی سامنے آ سکے گی۔

واضح رہے کہ ایلس ویلز کا خطے کا یہ پہلا دورہ ہے جو 30 جولائی سے شروع ہوا اور آٹھ اگست تک جاری رہے گا، اپنے اس دورے کے دوران وہ نئی دہلی بھی جائیں گی۔

امریکی حکام کے مطابق، دورے کا مقصد حالات کا جائزہ لینا اور مقامی عہدیداروں و مختلف طبقہ ہائے فکر سے ملاقاتیں کر کے صورت حال کو جاننا ہے۔

ایلس ویلز پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کی قائم مقام نمائندہ خصوصی کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔

امریکی محکمہٴ خارجہ سے گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ایلس ویلز پاکستان اور بھارت کے دورے کے دوران سرکاری عہدیداروں سے ملاقاتوں کے علاوہ ان ممالک میں امریکی سفارت خانوں کے عملے اور مقامی کاروباری برداری اور دانشوروں سے ملاقاتیں کریں گی۔

گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ ریپبلکن سینیٹر جان مکین کی قیادت میں امریکی کانگریس کے ایک پانچ رکنی وفد نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران امریکی وفد دہشت گردی سے متاثرہ پاکستان کے قبائلی علاقے، جنوبی وزیرستان بھی گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG