رسائی کے لنکس

اٹلی نے اپنے ہاں ہزاروں تارکین وطن کی آمد کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے ساحلوں کو تارکین وطن کی کشتیوں کے لیے بند کر دے گا تاکہ انھیں بحیرہ روم کے دیگر ملکوں کی طرف جانے پر مجبور کیا جا سکے۔

رواں سال اب تک اٹلی میں 82000 تارکین وطن آچکے ہیں جن میں اکثریت افریقی ملکوں سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔ اٹلی، یورپ میں داخلے کے لیے ان تارکین وطن کا مرکزی مقام بن چکا ہے۔

اسی سال شمالی افریقہ سے آنے والے تقریباً دو ہزار سے زائد تارکین یورپ پہنچنے کی خواہش میں موت کا شکار بھی ہو چکے ہیں۔

اٹلی کی طرف سے یہ انتباہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اتوار کو ہی اٹلی، فرانس اور جرمنی کے وزرائے داخلہ پیرس میں ملاقات کر رہے ہیں جس کا مقصد اٹلی کے ساحلوں پر بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد سے پیدا ہونے والے مسائل پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

حکام کے مطابق تینوں ملکوں کے وزرائے داخلہ یورپی یونین کے کمشنر برائے پناہ گزین دمتریس اویراموپولوس سے بھی ملاقات کر کے صورتحال پر بات چیت کریں گے۔

ایک ہفتے کے دوران سازگار موسم اور پرسکون سمندر کی وجہ سے دس ہزار سے زائد تارکین وطن کو اٹلی کے ساحل کے قریب سے بچایا جا سکا ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں بھی موسم خوشگوار رہنے کی وجہ سے توقع ہے کہ ایک بڑی تعداد میں تارکین وطن یہاں کا سمندری سفر اختیار کر سکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اگر اسی شرح سے تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ جاری رہا تو یہ تعداد گزشتہ سال آنے والے دو لاکھ تارکین سے بھی تجاوز کر جائے گی۔

یورپی کمیشن کو لکھے گئے ایک خط میں یورپی یونین کے لیے اٹلی کے سفیر موریزیو ماساری کا کہنا تھا کہ صورتحال "ناقابل برداشت" ہو چکی ہے۔

اٹلی اس ضمن میں دیگر یورپی ملکوں سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG