رسائی کے لنکس

ہزاروں قبائلی اپنے علاقوں کو واپس جانے پر 'آمادہ نہیں'

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

پاکستان کے قبائلی علاقوں سے شورش پسندی اور پھر شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد گو کہ اپنے اپنے آبائی علاقوں کو واپس جا چکی ہے لیکن سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب بھی تقریباً 44 ہزار خاندان ایسے ہیں جو واپس نہیں گئے۔

ان میں سے اکثریت خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں آباد ہو چکی ہے اور کئی خاندان بہتر سہولیات زندگی کے باعث اب واپس قبائلی علاقوں میں جانے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔

اگرچہ شدت پسندوں کا صفایا کیے جانے کے بعد ماضی کی نسبت قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے لیکن مبصرین کے نزدیک نقل مکانی کرنے والے ان خاندانوں کے واپس نہ جانے کی ایک بڑی وجہ قبائلی علاقوں میں رائج فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن اور قبائلی ذمہ داری کا قانون بھی ہے۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک سرگرم کارکن شاہ فیصل آفریدی کہتے ہیں کہ گزشتہ کئی سالوں سے اپنے گھروں سے دور رہنے والے یہ خاندان اب بندوبستی اور شہری علاقوں میں سکونت اختیار کر چکے ہیں جہاں نہ صرف انھیں روزگار اور کاروبار کی سہولت میسر ہے بلکہ انھوں نے اپنے بچوں کو بھی تعلیمی اداروں میں داخل کروا دیا ہے جب کہ ان کے آبائی علاقوں میں صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے۔

لیکن وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ان خاندانوں کے واپس نہ جانے کی اہم اور بنیادی وجہ تحفظ کا وہ احساس ہے جو انھیں قبائلی علاقوں میں حاصل نہیں۔

"گزشتہ دنوں ہمارے علاقے میں سڑک پر ایک بم دھماکا ہوا اس میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن انتظامیہ والے آئے اور انھوں نے پورے گاؤں کو گھروں سے نکال کر سڑک کنارے کئی گھنٹوں تک بٹھائے رکھا ان سے پوچھتے رہے کہ کس نے یہ دھماکا کیا۔ وہ اپنے آپ کو وہاں محفوظ نہیں سمجھتے، جو مخصوص قوانین ہیں، امن تو ہے لیکن وہاں ان قوانین کی وجہ سے لوگ خوف محسوس کرتے ہیں۔"

قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر افراسیاب خٹک بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تحفظ کے احساس کے لیے قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جانا بے حد ضروری ہے۔

"ریاست کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور جن حالات میں یہ لوگ آئے تھے ان کا بھی جائزہ لینا چاہیے ان کی مشکلات کو سمجھنا چاہیے۔ ہر انسان اپنے گھر سے محبت کرتا ہے، پرندہ بھی اپنے گھر سے محبت کرتا ہے لیکن جب وہاں سانپ بیٹھا ہو تو پھر وہ بھی اپنے گھونسلے کی طرف نہیں جاتا۔"

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات میں تاخیر قبائلی علاقوں کے لوگوں میں احساس محرومی کو مزید بڑھاوا دے گی۔

حکومت فاٹا اصلاحات کا مسودہ تیار کر چکی ہے لیکن تاحال یہ قانون سازی کے مرحلے میں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG