رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کو فنڈز کی فراہمی روکنے کے لیے سلامتی کونسل میں اقدام


تیس صفحات پر مشتمل مسودے میں داعش کو رقم کی ترسیل کے لیے عالمی مالیاتی نظام کا استعمال روکنے سے متعلق شقیں موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جمعرات کو داعش کے شدت پسندوں کو فنڈز کی ترسیل روکنے کے لیے اقدامات پر رائے شماری کرے گی۔

پہلی مرتبہ کونسل کے 15 رکن ممالک کے وزرائے خزانہ ایک قرارداد منظور کرنے کے لیے اکٹھے ہوں گے۔ اس کا مقصد داعش کو ان پابندیوں کے دائرے میں لانا ہے جو القاعدہ پر عائد ہیں۔

امریکہ کی اقوام متحدہ میں سفیر سمانتھا پاور نے بدھ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’اگر یہ قرارداد منظور ہو جائے، اور ہمیں امید ہے کہ یہ ہو جائے گی، تو یہ عالمی قوانین میں ایک نیا اضافہ ہو گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ قرار داد کا مسودہ رکن ممالک کو داعش کے دہشت گردوں کو فنڈز کی فراہمی روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے کا پابند کرے گا۔

داعش نے شام اور عراق کے بڑے حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور لیبیا میں بھی اپنے ٹھکانے وسیع کرنا چاہتی ہے۔

سمانتھا پاور نے کہا کہ ’’ہم نے پیش رفت کی ہے اور داعش کی فنڈز تک رسائی کی صلاحیت میں کافی ضرب لگائی ہے۔ مگر وہ اب بھی ثقافتی نوادرات اور تیل سمگل کر رہے ہیں اور اپنے علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ ہمیں اب اس مسئلے کو حل کرنا ہے۔‘‘

داعش کا نام ’’عراق میں القاعدہ‘‘ کے عنوان سے 2004 سے القاعدہ پر عائد پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے مگر نئی قرارداد کے ذریعے داعش کو خصوصی طور پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا تاکہ اس شدت پسند گروہ کی مالی اعانت کو روکا جا سکے۔

تیس صفحات پر مشتمل مسودے میں داعش کو رقم کی ترسیل کے لیے عالمی مالیاتی نظام کا استعمال روکنے سے متعلق شقیں موجود ہیں۔ اس مسودے میں دہشت گردوں کے ہاتھ روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی ترسیلات کو جرائم کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ مسودے میں پابندیوں کی خلاف ورزی کی نگرانی کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

مزید برآں یہ قرارداد رکن ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔

جمعرات کے اجلاس میں وزرائے خارجہ اور سفرا کی بجائے وزرائے خزانہ کی موجودگی انسداد دہشت گردی کے لیے انتہائی تکنیکی اور مخصوص کام کی نوعیت کا اشارہ ہے۔

اگرچہ امریکہ اور روس میں اختلافات موجود ہیں مگر اس قرارداد کا مسودہ تیار کرنے کے لیے طرفین نے مل کر کام کیا۔

XS
SM
MD
LG