رسائی کے لنکس

logo-print

مسافر طیارے کی تباہی کی تحقیقات جاری، روس میں یوم سوگ


تفتیش کار اس 18 سال پرانے جہاز کی تباہی کی ہر پہلو سے جانچ کر رہے ہیں اور اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ آیا اس میں کوئی تکنیکی خرابی تو پیدا نہیں ہو گئی تھی۔

روس اور مصر کے تفتیش کار ہفتہ کو مصری علاقے جزیرہ نما سینا میں گر کر تباہ ہونے والے روسی مسافر طیارے کے واقعے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔

جہاز پر 224 افراد سوار تھے اس نے شرم الشیخ سے روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے لیے اڑان بھری تھی لیکن 23 منٹ بعد ہی اس کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہو گیا۔

طیارے پر سوار کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچا ہے اور اتوار کی صبح تک یہاں سے 129 لاشیں نکالی جا چکی تھیں۔

روس میں اتوار کو یوم سوگ منایا جا رہا ہے۔ جہاز کے 217 مسافروں میں صرف تین کا تعلق یوکرین سے تھا جب کہ باقی تمام لوگ روسی شہری تھے۔ اس میں عملے کے سات ارکان بھی شامل ہیں۔

شدت پسند تنظیم داعش سے وابستہ ایک گروپ نے اس جہاز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا لیکن روس کے وزیر ٹرانسپورٹ میکسم سوکولوف نے کہا کہ "یہ دعویٰ درست نہیں ہو سکتا۔"

مصر کی فوج کے ترجمان محمد سمیر نے بھی اس دعوے کو مسترد کیا۔ " شدت پسند جو چاہیں بیان دے سکتے ہیں لیکن اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ طیارے کی تباہی کے وہ ذمہ دار ہیں۔۔۔فوج کو ان دعوؤں میں کوئی حقیقت نظر نہیں آتی۔"

تفتیش کار اس 18 سال پرانے جہاز کی تباہی کی ہر پہلو سے جانچ کر رہے ہیں اور اس بات پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ آیا اس میں کوئی تکنیکی خرابی تو پیدا نہیں ہو گئی تھی۔

حکام کے بقول اس طیارے کو روس سے پرواز کے لیے تیار کرنے والے عملے اور دیگر متعلقہ لوگوں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

روس نے ستمبر میں شام میں داعش کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں جس کے بعد سے متعدد شدت پسند گروپ یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ روسی مفادات کو نشانہ بنائیں گے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ شدت پسندوں کے پاس ایسے ہتھیار ہیں جو تیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے والے طیارے کو نشانہ بنا سکیں۔

جرمنی کی فضائی کمپنی لفتھانزا اور فرانس کی کے ایل ایم نے کہا ہے کہ وہ حفظ ماتقدم کے طور پر سینا کا روٹ اختیار نہیں کریں گے۔

XS
SM
MD
LG