رسائی کے لنکس

logo-print

علی رضا عابدی سپردِ خاک، قتل کی تحقیقات جاری


سید علی رضا عابدی (فائل فوٹو)

علی رضا عابدی کو منگل کی رات کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ان کے گھر کے باہر دو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

کراچی میں قتل ہونے والے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن قومی اسمبلی سید علی رضا عابدی کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کے ذریعے ملزمان کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

علی رضا عابدی کو منگل کی رات کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ان کے گھر کے باہر دو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

علی رضا عابدی کو بدھ کو کراچی میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، ارکانِ اسمبلی اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ادھر پولیس نے واقعے میں استعمال ہونے والے اسلحے کی گولیوں کی فرانزک تحقیقات مکمل کرلی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں استعمال ہونے والا 30 بور کا پستول لیاقت آباد میں بھی قتل کی ایک اور واردات میں استعمال ہوچکا ہے۔

ایس ایس پی ضلع جنوبی کراچی پیر محمد شاہ نے بدھ کو علی رضا عابدی کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ علی رضا عابدی پر کل سات گولیاں فائر ہوئیں جن میں سے تین گولیاں گاڑی پر لگیں۔

ان کے بقول اب تک کی تحقیقات کے مطابق واقعے کے دو ملزمان سامنے آئے ہیں جن کے بیک اپ پر بھی بعض افراد ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے بتیاا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں ملزمان کی نشاندہی ہوئی ہے جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے اردگر لگے کیمروں کی مزید فوٹیجز بھی حاصل کرلی ہیں۔

پولیس نے تحقیقات کے لیے سابق رکن قومی اسمبلی کے موبائل فونز بھی حاصل کر لیے ہیں۔

سید علی رضا عابدی منگل کی شام فشریز میں واقع اپنے والد کی فیکٹری سے گھر روانہ ہوئے تھے اور گھر کے دروازے پر ہی انہیں نشانہ بنایا گیا تھا۔

ادھر پولیس نے مقتول رہنما کے گھر پر تعینات محافظ کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گارڈ عبدالقدیر سے اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ اس نے حملہ آور پر جوابی فائرنگ کیوں نہیں کی۔

دوسری جانب کراچی میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات پر وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس ہوا ہے جس میں ترجمان کے مطابق مراد علی شاہ نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا ہے کہ سکیورٹی اداروں کو خود مختاری دینے کے باوجود بھی نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ انہوں نے سکیورٹی اداروں کو فوری طور پر قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا حکم دیا ہے۔

علی رضا عابدی کے قتل کی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں نے مذمت کی ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بدھ کو نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علی رضا عابدی کا قتل کراچی کا امن خراب کرنے کی سازش ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

علی رضا عابدی کے قریبی ساتھی اور سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ علی رضا عابدی کو موصول ہونے والی دھمکیوں کا انہیں علم تھا۔

وفاقی وزیر برائے آبی امور سید علی زیدی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ کراچی میں امن و امان کی صورتِ حال کے جائزے کے لیے وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی بھی بدھ کو کراچی پہنچ رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG