رسائی کے لنکس

logo-print

اقرا عزیز اور یاسر حسین کی منگنی اور سوشل میڈیا


اقرا عزیز اور یاسر حسین، فائل فوٹو

یوں تو انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ افراد کے بنتے بگڑتے تعلقات پر، پرستار نگاہ رکھتے ہی ہیں اور اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں، لیکن اقرا عزیز اور یاسر حسین کی منگنی سوشل میڈیا پر کچھ زیادہ ہی ٹرینڈ میں رہی۔

اس کی وجہ منگنی نہیں بلکہ کامیڈین، ہوسٹ، پلے رائٹر اور اداکار یاسر حسین کی جانب سے اپنائیت کے اظہار کا وہ مظاہرہ تھا جو انہوں نے ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ اقرا عزیز کی طرف سے منگنی پر اقرار کے لیے کیا تھا۔ جس پر سوشل میڈیا کے کئی صارفین کچھ زیادہ ہی بھڑک اٹھے اور انہوں نے اپنی اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا اور میمز بنائیں۔ ان میں سب سے زیادہ میمز بچوں کے معروف کارٹونز ٹام اینڈ جیری کی تھیں۔

لکس سٹائل ایوارڈ 2019 کے 18ویں ایڈیشن کی اس تقریب میں، یاسر کی جانب سے پروپوزل اور اقرا کو گلے لگانے اور بوسہ دینے پر ہونے والی ٹرولنگ کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ ایک ٹوئٹر صارف حارث رضا نے اسے یاسر حسین کی جانب سے ایک بے ہودہ قدم قرار دیا۔

شعیب نے ٹوئٹ کیا کہ اگر یاسر نے اقرا کو تھپڑ مارا ہوتا تو اتنا شور ہرگز نہ ہوتا، جب کہ جواد حسین بشیر نے ان دونوں کی منگنی سے متاثر ہو کر ایک گیت ’’دھوپ کا دیا ‘‘ بھی گا ڈالا۔

فرقان جمیل، پیمرا کی جانب سے اس معاملے میں خاموشی پر اعتراض کرتے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ محمد نعمان سیال 21 سالہ اقرا عزیز اور 32 سالہ یاسر کی عمروں کے فرق کو نشانہ بناتے ہیں اور ایسے میں جب سوشل میڈیا ہنگامے میں قانون کی عمل داری، اسلامی ریپبلک آف پاکستان کی بنیادی اقدار اور مذہب کے حوالے سے دونوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، انٹرٹینمنٹ سے منسلک شخصیات ان کی حمایت میں آگے آ گئی ہیں۔

حمزہ علی عباسی لکھتے ہیں کہ کسی کو پروپوز کرنا اور اپنے جذبات کے اظہار میں کوئی برائی نہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ برائی کو برائی کہو مگر لوگوں کی تذلیل نہ کرو۔

ایک بلاگر اور شاعرہ شمائلہ حسین نے فیس بک پر لکھا، ’’ہم لوگ محبت سے اس حد تک خائف ہیں کہ نہ کر سکتے ہیں اور نہ کرنے دیتے ہیں۔ جہاں یاسر حسین اور اقرا عزیز کی بات ہوئی وہیں تڑپ اٹھے۔ بھلے کل کلاں وہ منگنی ٹوٹ بھی جائے، شادی نہ چلے یا کوئی بھی ناگہانی ہو جائے۔ کم از کم وہ اس لمحے کو تو یادگار بنا گئے۔ آپ کی زندگی میں ایسے جی بھر کر جیئے جانے کی کتنی ساعتیں ہوں گی۔ ذرا ٹھہر کے سوچئے‘‘۔

یاسر حسین کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ان کی پیدائش پشاور میں ہوئی۔ وہ اپنے کامیڈی کرداروں کی وجہ سے معروف ہیں۔ لالی وڈ میں انٹری ہٹ فلم ’کراچی سے لاہور‘ سے لی اور پھر اس کے سیکیوئل ’لاھور سے آگے‘ کے رائٹر ہونے کے ساتھ مرکزی کردار بھی یاسر ہی نے ادا کیا، اور فلم ’ہو من جہاں‘ کے ڈائیلاگ رائٹر بھی یاسر ہی ہیں۔

اقرا عزیز کا تعلق سندھ سے ہے۔ اقرا نے ٹی وی کمرشلز سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور پھر ’کسے اپنا کہوں‘ سے ڈراموں میں اداکاری شروع کی۔ اس کے بعد اقرا نے متعدد ہٹ ڈرامے دیے جن میں سوچا نہ تھا، مقدس، دیوانی، چھوٹی سی زندگی، سنو چندا، سنو چندا سیزن ٹو، اور دیگر کئی ہٹ ڈراموں کے ساتھ ساتھ حال ہی میں ختم ہونے والے سپر ہٹ ڈرامے ’رانجھا رانجھا کر دی‘ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہیں بہترین کارکردگی پر دو مرتبہ ہم ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ چھوٹی عمر میں والد کی وفات کے بعد ان کی والدہ نے بہت محنت کی اور کراچی میں کریم ٹیکسی کی پہلی خاتون ڈرائیور ان کی والدہ ہی تھیں۔

اپنی منگنی پر اٹھنے والے اس شور کے بارے میں انہوں نے انسٹاگرام پر لکھا کہ میں اتنی خوش ہوں کہ منفی باتیں میری خوشی ماند نہیں کر سکتیں؛ اور تنقید کرنے والوں کو میرا یہی کہنا ہے کہ پلیز جیو اور جینے دو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG