رسائی کے لنکس

ایران پر افغان بچوں کو شام کی لڑائی میں جھونکنے کا الزام


کرمان (فائل)

رپورٹ میں ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستے پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ خاص طور پر شیعہ ہزارہ افغانوں کو بھرتی کرکے اُنھیں حربی تربیت فراہم کر رہا ہے، جو اپنے ملک میں عشروں سے جاری مخاصمت کے پیشِ نظر ایران آ کر آباد ہوئے ہیں

بین الاقوامی حقوق کا دفاع کرنے والے ایک ادارے نے الزام لگایا ہے کہ ایران افغان تارکینِ وطن کے 14 برس تک کے کم عمر بچوں کو بھرتی کرکے اُنھیں شام میں سرکاری افواج کے ساتھ لڑنے کے لیےبھیج رہا ہے، جو بات جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔

اتوار کے روز شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ میں نیویارک میں قائم 'ہیومن رائٹس واچ' نے بتایا ہے کہ ادارے سے تعلق رکھنے والے محققین نے ایرانی قبرستانوں میں قبروں پر لگے ہوئے کتبوں کی تصاویر کا جائزہ لیا ہے، جن میں آٹھ قبریں افغان بچوں کی ہیں، جو بظاہر شام میں لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستے پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ خاص طور پر شیعہ ہزارہ افغانوں کو بھرتی کرکے اُنھیں حربی تربیت فراہم کر رہا ہے، جو اپنے ملک میں عشروں سے جاری مخاصمت کے پیشِ نظر ایران آ کر آباد ہوئے ہیں۔

'ہیومن رائٹس واچ' نے انتباہ جاری کیا ہے کہ ''فاطمی ڈویژن میں 14 برس کی عمر تک کے نوجوان افغان بچے لڑ چکے ہیں، جو خصوصی طور پر ایک افغان مسلح جتھہ ہے جس کی ایران حمایت کرتا ہے، جو شام کے تنازع میں سرکاری افواج کے ساتھ لڑ رہا ہے۔

بین الاقوامی قانون کی رو سے، 15 برس سے کم عمر کے بچوں کو بھرتی کرنا اور متحرک مخاصمانہ کارروائیوں میں جھونکنا جنگی جرم شمار ہوتا ہے''۔

انسانی حقوق کی صورت حال پر نظرداری رکھنے والے ادارے نے توجہ دلائی ہے کہ ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں سے چند معاملات کی تصدیق ہوتی ہے، جب کہ کم از کم چھ مزید کیس سامنے آئے ہیں جن سے بھرتی کیے گئے کم عمر افغان فوجی شام میں ہلاک ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

ادارے کی مشرق وسطیٰ کی سربراہ، سارہ لیہ وٹسن نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کم عمر فوجی بھرتی کرنے سے فوری طور پر باز آئے اور جن افغان بچوں کو شام روانہ کیا گیا ہے اُنھیں واپس بلایا جائے۔

بقول اُن کے، ''بے حال تارکِ وطن اور مہاجر بچوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کے برعکس ایرانی حکام کو چاہیئے کہ وہ تمام بچوں کو تحفظ فراہم کریں اور جو لوگ افغان بچوں کو بھرتی کرنے کے ذمہ دار ہیں اُنھیں کیفرِ کردار تک پہنچائے''۔

افغانستان میں ایک طویل عرصے سے جاری تنازع کے نتیجے میں لاکھوں شہری مہاجر بن کر ہمسایہ ایران اور پاکستان کا رُخ کر چکے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق، ملک میں 25 لاکھ کے لگ بھگ افغان مہاجر موجود ہیں، جن میں متعدد کے پاس رہائش کی دستاویزات تک نہیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG