رسائی کے لنکس

logo-print

برازیل نے ایران پر پابندیوں کی حمایت کی امریکی اپیل مسترد کردی


ویانا میں یورپی یونین اور امریکی عہدے داروں نے بدھ کے روز بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ایک اجلاس کے موقع پر ایران پر اضافی پابندیاں لگانے کی کوششوں کو جاری رکھنے کا عزم کیا تھا۔

برازیل کے وزیر خارجہ سیلسو امورِم نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران پر نئی پابندیوں کی حمایت کے لیے بین الاقوامی دباؤ کے سامنے” نہیں جھکے گا “ اور بات چیت کے ذریعے تہران کے جوہری پروگرام کے تنازع کا حل ڈھونڈنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

وہ امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت کے بعد بدھ کو ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔

اس موقع پر وزیر خارجہ کلنٹن نے متنبہ کیا کہ نئی پابندیوں کے بغیر ایران ”ایمانداری“ سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ نے برازیل کے صدر لوئیس اناسیو دا سلواسے بھی ملاقات میں ایران پر نئی پابندیاں لگانے کے بارے میں بات چیت کی ۔

تاہم اس ملاقات سے قبل ایک بیان میں برازیل کے صدر نے یہ انتباہ کیا تھا کہ بات چیت کے لیے گنجائش ہونے کے باوجود ایران کو تنہاہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

بعض امریکی عہدے دار وں نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا ہے کہ برازیل کی قیادت نے بعد میں وزیر خارجہ کلنٹن کو بتایا کے ایران کے مسلےء پر ان کے ملک کا موقف حتمی نہیں۔

برازیل کے صدر 15 مئی سے ایران کا سرکاری دورہ کریں گے جہاں ان کے بقول ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد سے وہ ہر موضوع پر کھل کر بات کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے لیے بھی وہی حقوق چاہتے ہیں جو برازیل کو حاصل ہوں یعنی پُر امن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا حصول اور اس مقصد کے لیے ان کا ملک ایران کی حمایت کرے گا۔

ویانا میں یورپی یونین اور امریکی عہدے داروں نے بدھ کے روز بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ایک اجلاس کے موقع پر ایران پر اضافی پابندیاں لگانے کی کوششوں کو جاری رکھنے کا عزم کیا تھا۔

خیال رہے کہ برازیل اقوام متحدہ کی پندرہ رکنی سلامتی کونسل رکن ہے اور ووٹ ڈالنے کا حق رکھتا ہے۔ لیکن اس کے پاس کسی قرار داد کو مسترد کرنے یا ویٹو کا وہ اختیار نہیں جو کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو حاصل ہے جن میں امریکہ، چین، برطانیہ، روس اور فرانس شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG