رسائی کے لنکس

logo-print

نیوکلیئر مذاکرات: برازیل کے صدر کی ایران آمد


ایران پہلے ہی اقوام متحدہ کے سمجھوتے کومستردکر چکا ہےجس میں ایندھن کےبیرون ملک تبادلے کے لیے کہا گیا تھا

برازیلی صدر لوئی اِناشیو لولا دا سِلوا، غیر وابستہ ترقی پذیر ملکوں کے 15کے گروپ کے سربراہی اجلاس میں شرکت اور ایرانی رہنماؤں کے ساتھ باہمی ملاقاتوں کے لیے تہران پہنچ گئے ہیں۔

اپنے دو روزہ دورے میں مسٹر دا سِلوا، صدر محمود احمدی نژاد سے مذاکرات کریں گے جِس میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی شامل ہوگا۔

برازیل کے رہنما کو امید ہے کہ وہ ایران کو اِس بات پر قائل کر لیں گے کہ وہ جوہری ایندھن کے تبادلے پر رضامند ہوجائے ، اور اقوامِ متحدہ کی وساطت سے پابندیوں کے چوتھے دور سے بچ نکلے۔

اِس سمجھوتے کو ایران پہلے ہی مسترد کر چکا ہے، جس میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ کم درجے کے افزودہ یورینیم کو بیرونِ ملک بھیج کر اُسے اونچے درجے کا یورینیم بنائے تاکہ یہ طبی تحقیقات کے ری ایکٹر میں کام آسکے۔

امریکہ اور روس کے اعلیٰ عہدے داروں نے کہا ہے کہ برازیل کی طرف سے کی جانے والی کوششیں ایران کے لیے نئی پابندیوں سے بچنے کے آخری موقع کے مترادف ہیں۔

مسٹر دا سِلوا کی آمد سے کچھ ہی دیر قبل، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رمیم مہمان پرست نے کہا کہ ہو سکتا ہے تہران اور مغرب کے درمیان جوہری سمجھوتے پرپہنچنے کے لیےمناسب صورت حال پیدا ہوجائے۔

XS
SM
MD
LG