رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کو تجارتی جہازوں کی فروخت روکنے کا بل منظور


فائل فوٹو

کانگرس کے بعض ارکان نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ ان طیاروں کی فروخت کے سمجھوتے کو ختم کرنے سے روزگار کے مواقع کم ہو جائیں گے۔

امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کو تجارتی جہازوں کی فروخت روکنے کے لیے ایک مسودہ قانون کی منطوری دی ہے۔ اس بل کا مقصد بوئنگ اور ائیر بس کمپنیوں کی ایران کو جہازوں کی فروخت کو روکنا ہے۔

اس بل کو ریپبلکنز کی اکثریت والے ایوان نمائندگان نےجمعرات کو منظور کیا۔ اس بل کے حق میں 243 جبکہ مخالفت میں 174 ووٹ ڈالے گئے۔ بل کے حق میں ووٹ دینے والوں میں آٹھ ڈیموکریٹک ارکان بھی شامل تھے۔

اس بل کا مقصد امریکہ کے محکمہ خزانہ کو امریکی بینکوں کو تجارتی جہازوں کی فروخت کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کے لیے اجازت نامے جاری کرنے سے روکنا ہے۔

یہ اقدام کانگرس کی ریپبلکنز ارکان کی ان کوششوں کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد ایران کے امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے بین الاقوامی جوہری معاہدے کو ختم کرنا ہے۔

بوئنگ اور ائیر بس کے ساتھ طے پانے سمجھوتے کے تحت ایران کی فضائی کمپنی ایران ائیر کو 200 سے زائد طیارے فروخت یا پٹے پر فراہم کیے جاسکتے ہیں جس سے ایران کی فضائی کمپنی کو مسافر طیاروں کے بیڑے کو جدید بنانے میں مدد ملے گی۔

اگرچہ ائیر بس فرانس میں قائم ہے تاہم اسے اپنے جہازوں کی فروخت کے لیے امریکہ کے محکمہ خزانہ کی اجازت لینا ضروری ہے کیونکہ ان جہازوں میں استعمال ہونے والے 10فیصد پرزے ایسے ہیں جو امریکہ میں بنائے جاتے ہیں۔

کانگرس کے بعض ارکان نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ ان طیاروں کی فروخت کے سمجھوتے کو ختم کرنے سے روزگار کے مواقع کم ہو جائیں گے۔

تاہم اس فروخت کی مخالفت کرنے والوں خاص طور پر ریپبلکنز جنہوں نے متفقہ طور پر اس بل کے حق میں ووٹ دیا کا موقف تھا کہ ان طیاروں کو شام میں امریکی اور ان کے اتحادیوں کے خلاف لڑائی کے لیے جنگجوؤں کو لے جانے کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس بل کا موجودہ کانگرس کی مدت میں منظور ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے اور اس کی سینیٹ سے منظوری لازمی ہےجہاں اسے ڈیموکرٹیک ارکان کی مخالفت کا سامنا کرناپڑ سکتا ہے۔

جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سینیٹ سے منظوری کی صورت میں صدر اوباما اس اقدام کو ویٹو کردیں گے۔ امریکی انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ یہ مجوزہ قانون سازی اس جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس میں ایران نے تعزیرات اٹھائے جانے کے عوض اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG