رسائی کے لنکس

logo-print

ایران جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد کر رہا ہے: رپورٹ


رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کا یورینئیم 300 کلوگرام کی طے کردہ حد سے آگے نہیں بڑھا اور اُس کے بھاری پانی کی رسد 130 ٹن کی حد سے کم ہے

اقوام متحدہ کے جوہری ادارے نے خبر دی ہے کہ ایران اُس سنگ میل سمجھوتے پر عمل درآمد کر رہا ہے جس کا مقصد اُس مرکب کے ذخیرے کو محدود کرنا ہے جسے جوہری ہتھیار تشکیل دینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے اِی اے) نے کہا ہے کہ ایران کے بھاری پانی اور یورینئیم کے ذخائر اُنہی حدود کے اندر ہیں، جن پر گذشتہ برس اتفاق کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کا یورینئیم 300 کلوگرام کی طے کردہ حد سے آگے نہیں بڑھا اور اُس کے بھاری پانی کی رسد 130 ٹن کی حد سے کم ہے۔

ادارے کی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ کے نتائج، جن کا جمعے کے روز اعلان کیا گیا، اِسے جنوری میں معاہدے پر عمل درآمد کے بعد تیار کیا گیا۔

جولائی 2015ء میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ نے ایران کے مواد کے ذخیرے کو محدود کرنے کے بارے میں سمجھوتا طے کیا۔

سمجھوتے کے عوض ایران کے خلاف اقوام متحدہ اور مغربی ملکوں کی جانب سے عائد تعزیرات اٹھالی گئیں، جس میں ملک کی بیش بہا تیل کی برآمدات شامل ہیں۔

تاہم، امریکہ نے ایران کے عائد تعزیرات قائم رکھی ہیں، چونکہ خلیج فارس کے اس ملک نے مشرق وسطیٰ میں جہازی سامان اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترسیل جاری رکھی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے مئی میں درخواست کی تھی کہ امریکہ کو چاہیئے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ’’مزید سنجیدہ اور ٹھوس‘‘ اقدام کرے۔

XS
SM
MD
LG