رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ سے کشیدگی کے بعد ایران کی خلیج فارس میں جنگی مشقیں


فائل فوٹو

ایران کی فوج 'پاسدارانِ انقلاب' نے تصدیق کی ہے کہ اُس نے گزشتہ کئی روز سے خلیج فارس میں مسلسل جنگی مشقیں کی ہیں جن کا مقصد ’’ممکنہ دشمن کی طرف سے خطرات‘‘ کا مقابلہ کرنا ہے۔

اس سے قبل امریکی حکام نے جمعرات کے روز رائٹرز کو بتایا تھا کہ امریکہ کے خیال میں ایران نے خلیج فارس میں بحری مشقیں شروع کر دی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ایران نے بظاہر سالانہ جنگی مشقوں کا انعقاد مقررہ وقت سے پہلے کر لیا ہے جن کی وجہ امریکہ سے جاری کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان رمیزن شریف نے ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا کو بتایا ہے کہ یہ فوجی مشقیں بین الاقوامی آبی راستوں کو کنٹرول کرنے اور اُن کے تحفظ کی خاطر کی گئی ہیں۔

امریکی مسلح افواج کی سینٹرل کمانڈ نے بھی بدھ کے روز تصدیق کی تھی کہ اُس نے خلیج فارس میں ایرانی بحری مشقوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ مشقیں آبنائے ہرمز تک پھیلا دی گئیں جو تیل کی برآمدات کیلئے ایک انتہائی اہم آبی راستہ ہے اور ایران نے دھمکی دی تھی کہ وہ اسے بلاک کر دے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محمد علی جعفری نے کامیاب بحری مشقوں کے انعقاد پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ ایران کیلئے دفاعی تیاری کو بہتر بناتے ہوئے خلیج اور آبنائے ہرمز کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا تاکہ دشمن کی طرف سے ممکنہ دھمکیوں اور کسی قسم کی کارروائیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

رائیٹرز کا کہنا ہے کہ ایک امریکی اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایران کی بحری مشقوں میں 100 سے زائد بحری جنگی جہازوں نے حصہ لیا جن میں چھوٹی کشتیاں بھی شامل تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG