رسائی کے لنکس

logo-print

ایران نے حزبِ اختلاف پر دباؤ بڑھا دیا


ایران کی حکومت نے حزبِ اختلاف کے سرگرم کارکنوں کو ہدف بناتے ہوئے اور احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف انتباہ جاری کرتے ہوئے حزبِ اختلاف پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

تہران کی پولیس کے سربراہ نے جمعے کے روز کہا ہے کہ حکومت مظاہرے منظم کرنے کے لیے یا دوسروں کو اُن کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے لیے ای میل یا ایس ایم ایس کے استعمال کو برداشت نہیں کرے گی۔

پولیس کے سربراہ نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی کارروائیاں خلافِ قانون ہیں اور انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ حکومت اس قسم کے مواصلاتی رابطوں کو مانیٹر کرتی ہے اور کنٹرول کرتی ہے۔

اسی دوران انٹیلی جنس کی پولیس نے ایک ایسے عالم کو گرفتار کر لیا ہے جو سینئر آیت اللہ حسین علی منتظری کے قریبی ساتھی تھے، جو ایران کے سخت گیر قدامت پرستوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے رہے تھے۔محمد تاغی خلجی کے ایک رشتے دار نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اُنہیں منگل کے روز قُم شہر میں گرفتار کیا گیا تھا اور پھر تہران لے جایا گیا تھا۔ خلجی کے بیٹے مہدی خلجی نے کہا ہے کہ اُن کی گرفتاری کی کوئى وجہ نہیں بتائى گئى۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعے کے روز یہ اطلاع بھی دی ہے کہ حکومت جلد ہی اُن 16 افراد کو گرفتار کر لینے کا ارادہ رکھتی ہے، جنہیں حکومت کے خلاف گذشتہ مہینے کے احتجاجی مظاہروں میں ملوّث بتایا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG