رسائی کے لنکس

logo-print

ایران: امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت


ایران کا محکمہ انصاف، فائل فوٹو

ایران کے محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ اس نے امریکی ادارے سی آئی اے کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایک شخص کو سزائے موت سنائی ہے۔

یہ سزا ایک ایسے موقع پر دی گئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

محکمہ انصاف کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے منگل کے روز بتایا کہ اسی جرم کے سلسلے میں مزید دو افراد کو 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں، جب کہ ایک چوتھے شخص پر برطانیہ کے لیے جاسوسی کا الزام ثابت ہونے پر اسے بھی 10 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

اسماعیلی کا کہنا تھا کہ جس شخص کو موت کی سزا سنائی گئی ہے، اس نے سزا کے خلاف اپیل کر دی ہے جس کا فیصلہ ملک کی اپیل کورٹ کرے گی۔

یہ سزائیں ایک ایسے موقع پر دی گئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بڑھنے کی وجہ صدر ٹرمپ کی جانب سے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدے سے باہر نکلنا اور تہران پر پابندیاں دوبارہ نافذ کرنا ہے۔

اسماعیلی نے سزائے موت پانے والے شخص کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان افراد کے نام بتائے جنہیں 10 سال قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قید کی سزائیں پانے والے جن افراد نے سی آئی اے کے لیے جاسوسی کی تھی ان کے نام علی نفریہ اور محمد علی باباپور ہیں۔ انہیں 55 ہزار ڈالر واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے جو انہوں نے سی آئی اے سے موصول کیے تھے۔

اسماعیلی نے کہ جس شخص کو برطانیہ کے لیے جاسوسی پر سزا ہوئی ہے اس کا نام محمد امین نسب ہے اور وہ ایک ایرانی شخص ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صدر حسن روحانی کے بھائی حسین فریدون کی سزا میں دو سال کی تخفیف کر دی گئی ہے، جنہیں رشوت ستانی کے جرم پر سات سال قید ہوئی تھی۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا جن افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں، یہ وہی افراد ہے جن کے بارے میں ایران نے جولائی میں کہا تھا کہ اس نے سی آئی اے کے لیے کام کرنے کے الزام میں 17 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے ان سزاؤں پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG