رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی انتخابات: شام کی لڑائی میں ملوث ہونا موضوعِ بحث نہیں


انتخابی مہم کے دوران، امیدواروں نے اس عنوان کا ذکر تک نہیں کیا، ماسوائے چند قدامت پسند امیدواروں کے جنھوں نے اس جنگ میں ایرانیوں کی جانب سے پیش کردہ قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، اُنھیں سراہا ہے، خاص طور پر داعش کو ہدف بنائے جانے کے بارے میں

ایسے میں جب ایرانی جمعے کو پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے، کچھ ووٹر بڑے فریم والی تصاویر اور مصوری نمایاں کریں گے، جن میں شام میں ہلاک ہونے والے ایرانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد دکھائی جائے گی۔ تاہم، شام کے معاملات میں ایران کی بڑھتی ہوئی مداخلت انتخابی مہم کا حصہ نہیں۔

انتخابی مہم کے دوران، امیدواروں نے اس عنوان کا ذکر تک نہیں کیا، ماسوائے چند قدامت پسند امیدواروں کے جنھوں نے اس جنگ میں ایرانیوں کی جانب سے پیش کردہ قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، اُنھیں سراہا ہے، خاص طور پر داعش کو ہدف بنائے جانے کے بارے میں۔

تجزیہ کار اور حقوق انسانی کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایران کی سخت گیر حکومت اس بات کو یقینی بنایا چاہتی ہےکہ شام میں ایرانی جانی نقصان کا معاملہ داخلی انتخابی مہم کے دوران تشویش کا باعث نہ بنے۔

احمد فرحانی ایرانی صحافی ہیں جو کوپن ہیگن میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’ایرانی حکام نے رائے عام کو اِس طرح سے پیش کیا ہے کہ اگر ہم بیرونِ ملک دولت اسلامیہ سے نہ لڑیں تو ایران ختم ہوجائے گا اور اُس کے ساتھ بھی وہی بیتے گی جو شام میں ہو رہا ہے‘‘۔

عوامی بیانات اور حکومت کی تحویل میں کام کرنے والے ابلاغ کے ذرائع میں، ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ روس سے مل کر بشار الأسد کی شامی حکومت کی حمایت میں اور حزبِ مخالف کے باغیوں اور داعش کے خلاف لڑنے میں حمایت کر رہے ہیں۔

ایران نے تربیت یافتہ پاسدارانِ انقلاب کے دستے روانہ کیے ہیں، تاکہ زمینی لڑائی کی جاسکے، جن کے ساتھ لبنان سے ایرانی پشت پناہی والے حزب اللہ کے لڑاکا بھی شامل ہوگئے ہیں۔ روسی فضائی حملوں کے ذریعے اُنھیں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ گذشتہ سال شام میں ایرانی پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کے لڑاکوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا اور اُن کی ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ 2015ء کے آخری مہینوں کے دوران، ایران نے شام میں پاسداران انقلاب کے اہل کاروں کی تعداد میں اضافہ کیا، جب بیبی زینب کی زیارت کے دفاع کے لیے 3500 ملیشیا کے لڑاکے محاذ جنگ کی جانب روانہ کیے گئے۔ یہ زیارت شیعہ حضرات کے لیے ایک متبرک مقام ہے، جو دمشق کے جنوبی مضافات میں واقع ہے۔

ایران کے سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن چینل ، ’صدا و سیما اسلامی جمہوریہٴ ایران (آئی آر آئی بی)‘ کے ڈپٹی کمانڈر، برگیڈیئر حسین سلامی نے کہا ہے کہ لڑائی میں شدت آنے کے نتیجے میں، شام میں ایرانیوں کی ہلاکتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ایرانی حکومت اِن ہلاکتوں کو داعش کے خلاف لڑائی میں دی جانے والی عظیم قربانی کا ایک حصہ قرار دیتا ہے، جو اپنی خلافت کا قیام چاہتی ہے۔

’بیورو آف میڈیا رسرچ‘ سے وابستہ تحقیق کار نے، اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، تہران میں ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ شام میں ایرانی جنگ داعش کے خلاف ہے۔ ’’َِشام کی لڑائی کے بارے میں، زیادہ تر ایرانیوں کو اِسی بات کا پتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ بشار کی حمایت ثانوی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG