رسائی کے لنکس

logo-print

ایران: ابتدائی نتائج میں اعتدال پسند صدارتی اُمیدوار کی سبقت


تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ ووٹوں میں سے روحانی کو 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے، تہران کے میئر باقر قالیباف 15 فیصد کے واضح فرق کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

ایران کے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں اعتدال پسند اُمیدوار حسن روحانی کو برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ انھیں ملک میں اصلاح پسندوں کی حمایت حاصل ہے۔

ہفتہ کو گنے گئے تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ ووٹوں میں سے روحانی کو 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے۔

تہران کے میئر باقر قالیباف 15 فیصد کے واضح فرق کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

تاحال یہ واضح نہیں حتمی نتائج کا اعلان کب کیا جائے گا۔

ایران میں پانچ کروڑ اہل ووٹر ہیں اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 75 سے 80 فیصد رہی۔

لیکن ملک کے الیکشن کمیشن نے اس بارے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

انتخابات میں کامیابی کے لیے کسی بھی امیدوار کو 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنا ہوتے ہیں۔ بصورت دیگر ایک ہفتے بعد انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد ہوتا ہے۔

ایران کے صدارتی انتخاب میں کل چھ امیدوار میدان میں تھے اور جمعہ کو ملک بھر میں لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

ووٹ ڈالنے کے لیے لوگوں کے بے پناہ رش کے باعث الیکشن حکام نے ووٹ ڈالنے کے اوقات میں کئی گھنٹے اضافہ کر دیا تھا اور رات گیارہ بجے تک یہ پولنگ کا عمل جاری رہا۔

انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والا اُمیدوار صدر محمود احمدی نژاد کی جگہ لے گا جنہوں نے گزشتہ دو صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور ملک کا آئین کسی کو مسلسل تیسری مدت کے لیے صدارتی انتخابات لڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔

نئی صدر کے لیے ملک کی مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث ملک کی مشکل اقتصادی صورت حال کو درست کرنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ ایران کو اپنے متنازع جوہری پروگرام کے باعث کئی بین الاقوامی تعزیرات کا سامنا ہے۔

انتخابی مہم کے دوران ایک اُمیدوار نے بین الاقوامی برادری سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوششوں کا اعلان کیا تاہم بڑے ’پالیسی سازی‘ کے فیصلوں کا اختیار بدستور ملک کے رہبر اعلٰی کے پاس رہے گا۔
XS
SM
MD
LG