رسائی کے لنکس

logo-print

ایران: شوریٰ نگہبان نے جوہری معاہدے کی منظوری دیدی


شوریٰ کے ترجمان نے کہا ہے کہ معاہدہ شرعی قوانین اور ایران کے آئین سے متصادم نہیں جس کے بعد اسے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا ہے۔

ایران کی شوریٰ نگہبان نے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد ایرانی حکومت کے لیے معاہدے پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

ایرانی پارلیمان نے منگل کو بھاری اکثریت سے معاہدہ منظور کرلیا تھا جو کئی سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد رواں سال جولائی میں صدر حسن روحانی کی حکومت اور چھ عالمی طاقتوں – امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس، چین اور جرمنی - کے درمیان طے پایا تھا۔

پارلیمان کی منظوری کے بعد معاہدے کو حتمی منظوری اور جائزے کے لیے شوریٰ نگہبان کو بھیجا گیا تھا جس نے بدھ کو اپنے اجلاس میں اسے منظور کرلیا۔

ایرانی آئین کے مطابق شوریٰ نگہبان پارلیمان سے بالاتر ادارہ ہے جو آئین کی تشریح کرنے، پارلیمان کےمنظور کردہ قوانین کی شریعت سے مطابقت یقینی بنانے اور صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں امیدواران کی جانچ پڑتال کا ذمہ دار ہے۔

بارہ رکنی شوریٰ نگہبان کے نصف ارکان فقیہ (شرعی قانون کے ماہر علمائے دین) ہوتے ہیں جنہیں سپریم لیڈر نامزد کرتا ہے جب کہ دیگر نصف نشستیں وکلا کے لیے مخصوص ہیں جنہیں ارکانِ پارلیمان منتخب کرتے ہیں۔

شوریٰ کے ترجمان نجات اللہ ابراہیمیان نے بدھ کو اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ شوریٰ نگہبان سمجھتی ہے کہ معاہدہ شرعی قوانین اور ایران کے آئین سے متصادم نہیں جس کے بعد اسے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا ہے۔

شوریٰ نگہبان کی منظوری کا مطلب ہے کہ جوہری معاہدہ قانون کی صورت اختیار کرگیا ہے جس کے بعد صدر حسن روحانی کی حکومت اس پر عمل درآمد کا آغاز کرسکے گی۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی برادری کے خدشات کا ازالہ کرنا اور ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے۔

XS
SM
MD
LG