رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی ہائیکروں پر مقدمہ چلایا جائے: ایرانی استغاثہ


حکومتی خبررساں ادارے، ‘ اِرنا’ نے استغاثے کے عہدے دار عباس جعفری دولت آبادی کے حوالے سے کہا ہے کہ اِن امریکیوں کے خلاف تفتیش کی نگرانی کرنے والے شخص نے بدھ کو مقدمے کی فائل اور الزامات کے مندرجات عدالت کوبھیج دیے ہیں۔

ایران کے ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک ایرانی استغاثے نے جاسوسی کے الزام پر تین امریکی ہائیکروں پر جلد مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومتی خبررساں ادارے، ‘ اِرنا’ نے استغاثے کے عہدے دار عباس جعفری دولت آبادی کے حوالے سے کہا ہے کہ اِن امریکیوں کے خلاف تفتیش کی نگرانی کرنے والے شخص نے بدھ کو مقدمے کی فائل اور الزامات کے مندرجات عدالت کوبھیج دیے ہیں۔

دولت آبادی کا بیان تین میں سے ایک ہائیکر، سارا شوراڈ کی پانچ لاکھ ڈالر کی ضمانت کے عوض رہائی کے ایک دِن بعد سامنے آیا ہے، جِنھیں ایک برس سے زیادہ عرصے تک جیل میں بند رکھنے کے بعد ایران چھوڑنے کی اجازت دی گئی۔

شوراڈ نے ہم وطن ہائیکروں، شان بوئر اور جوش فتل کو پیچھے چھوڑا ہے ، جو ایران کی تحویل میں ہیں۔ اہل کاروں نے اُنھیں شمالی عراق سے ایران میں داخل ہوتے ہوئے جولائی 2009ء میں گرفتار کر لیا تھا۔ اُن پر الزام ہے کہ وہ جاسوسی کے مقصد سے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہو رہے تھے۔ اُن کے اہلِ خانہ کہتے ہیں کہ اُنھوں نے غلطی سے سرحد پار کر لی تھی۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے بدھ کے روز کہا کہ اگر ایران ایک ہائیکر کو رہا کر سکتا ہے تو وہ باقی دو کو بھی رہا کرسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسا کرکے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد ایک اہم میسیج دے سکتے ہے۔

وائس آف امریکہ کی پی این این سروس کو دیے گئے انٹرویو میں ایران میں بند دو ہائیکروں کی ماؤں نے کہا ہے کہ اُنھیں اِس بات کی امید ہے کہ اُن کے بیٹوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG