رسائی کے لنکس

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ


ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ احمد خاتمی (فائل فوٹو)

شام پر میزائل فائر کرنے کے تبادلے کے دو دن کے بعد ایران اور اسرائیل میں لفظی جنگ شروع ہو گئی ہے اور ایک ممتاز ایرانی مذہبی رہنما نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے کوئی "نامعقول کارروائی" کرتے ہوئے شام میں موجود ایرانی فورسز پر دوبارہ حملہ کیا تو وہ دو اسرائیلی شہروں کو "زمین بوس" کر دیں گے۔

دوسری طرف اسرائیل کے وزیر دفاع نے بھی شام کے صدر بشار الاسد کو تنبیہ کی ہے کہ انہیں صرف "نقصان اور مسائل " کا سامنا کرنا پڑے گا اگر وہ اپنے ملک سے ایران کی فورسز کو نکال باہر نہیں کرتے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین نے کہا کہ اسد کو ایران کی قدس فورس کے قاسم سلیمانی سے خاص طور پر محتاط رہنا ہو گا جو ایران کی پاسداران انقلاب کا ہی ایک ونگ ہے جو ایران سے باہر کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔

لیبر مین نے کہا کہ "میرا اسد کے لیے ایک پیغام ہے، ایرانیوں سے جان چھڑائیں، قاسم سلیمانی سے اور قدس فورس جان چھڑائیں، وہ آپ کی مدد نہیں کررہے ہیں وہ صرف نقصان پہنچا رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "ان کی موجودگی صرف مسائل اور نقصان کا باعث بنے گی۔ ایرانیوں سے جان چھڑائیں اور شاید ہم یہاں پر اپنی طرز زندگی کو بدل سکیں۔"

اسرائیل نے 10 مئی کو ایران پر شام سے اسرائیل کے زیر قبضہ جولان کے پہاڑی سلسلے پر راکٹ فائر کرنے کا الزام عائد کیا تھا یہ ایران کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ کا پہلا مبینہ حملہ ہے۔

اسرائیل نے جواب میں شام کے اندر فضائی کارروائی کرتے ہوئے شام کے اندر ایران کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور شام کی خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد یہ اسرائیل کی سخت ترین فضائی کارروائی تھی۔

شام میں جنگ کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ میزائل حملوں کے تبادلے میں 23 افراد ہلاک ہوئے۔

اسرائیل پہلے ہی متنبہ کر چکا ہے کہ وہ شام کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب ایران کو اپنی فوجی تنصیبات قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا، شام میں ایرانی فوجی مشیر، فوجی دستے اور ان کے اتحادی شیعہ ملیشیا 2011ء سے بشار الاسد کی حمایت کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ایران نے 10 مئی کو اسرائیل کے الزامات کومن گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا تاکہ شام کے اندر حملے کیے جا سکیں۔

ایران کے ایک اعلیٰ مذہبی رہنما آیت اللہ احمد خاتمی نے متنبہ کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو اسرائیل کو تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے جمعے کے خطبے میں انہوں نے کہا "مغربی ملکوں کے دباؤ کے باوجود ہم اپنے میزائل کی صلاحیت کو وسعت دیں گے ۔۔۔ اور اسرائیل کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہا اگر اس نے کوئی نامعقول حرکت کی تو ہم تل ابیب اور حیفہ کو زمین بوس کر دیں گے۔"

لبنان کی پارلیمان کی اسپیکر نبی بیری جو ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے اتحادی ہیں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ داعش کے خلاف برسرپیکار تقریباً 1,000 امریکی فوجی مشرقی شام میں موجود ہیں اور ان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

بیری نے کہا کہ "شام میں امریکی مفاد بھی ہیں اور ایک بڑی جنگ چھڑ جاتی ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ امریکی صدر کے لیے اس کے نتائج قابل قبول ہوں گے۔"

وائٹ ہاؤس نے 10 مئی کو ایک بار پھر اپنے اس مطالبہ کا اعادہ کیا کہ ایران امریکہ کے اتحادی ملک اسرائیل اور سعودی عرب کے خلاف اپنی "غیر محتاط کارروائیاں" بند کر دے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مئے سے فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد "دونوں رہنماؤں نے شام سے اسرائیلی شہریوں کے خلاف ایران کے اشتعال انگیز راکٹ حملوں کی مذمت کی ہے۔"

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی نے کہا کہ "یہ وقت ہے کہ ذمہ دار ملک ایران پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنا خطرناک طرز عمل تبدیل کرے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG