رسائی کے لنکس

logo-print

تنقیدی مضمون کی اشاعت پر ایرانی نیوز ایجنسی کے سربراہ کو سزا کا سامنا


تہران میں واقع ایسنا نیوز ایجنسی کا دفتر، 5 مئی 2020

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے کہا ہے کہ ایران کی ایک نیم سرکاری نیوز ایجنسی، 'ایسنا' کے سربراہ علی متقین پر ایک مضمون کی اشاعت پر جرم عائد کر دیا گیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ شائع کیے جانے والے مضمون میں ایک سابق سفارکار نے تہران کی یورپ میں ظالمانہ انٹیلی جینس کارروائیوں پر تنقید کی تھی۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے لوگوں کو بدظن کرنے کی نیت سے جان بوجھ کر مضمون شائع کیا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جرم عائد کیے جانے کے بعد آیا انہیں حراست میں لیا گیا ہے یا نہیں۔

ایران کے محکمہ انصاف کی اپنی نیوز ایجنسی 'میزان' نے کہا ہے کہ متقین کو دو ماہ سے دو سال تک جیل کی قید اور اس کے ساتھ ساتھ 74 کوڑوں اور جرمانے کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے جنوری 2019 میں جرمنی کے لیے ایران کے سابق سفارت کار علی مجددی کا خصوصی انٹرویو شائع کیا تھا، جس کے خلاف ایران کی طاقت ور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی انٹیلی جینس برانچ کی شکایت پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔

اپنے انٹرویو میں مجددی بظاہر یورپ میں ایرانی انٹیلی جنیس کے آپریشنز پر تنقید کرتے دکھائی دیے۔

مجددی نے اپنے انٹرویو میں جرمنی میں اسداللہ اسدی کی گرفتاری پر بات کی تھی۔ اسدی ویانا میں تعینات سفارت کار تھے، جن کے متعلق پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق ایران کی انٹیلی جنیس کی وزارت سے تھا۔

جرمنی کے پراسیکیوٹرز کا الزام تھا کہ اسدی بم دھماکہ کرنے کے ایک منصوبے میں ملوث تھے، جس کے تحت فرانس میں ایران کے ایک جلا وطن گروپ مجاہدین خلق کے سالانہ جلسے میں دھماکہ کرنا تھا۔ اس کے لیے اسدی نے دھماکہ خیز مواد فراہم کیا تھا۔

ایسنا میں شائع ہونے والے انٹرویو میں مجددی نے کہا تھا کہ کیا ہم اس سے انکار کر سکتے ہیں کہ ملک سے باہر اس طرح کے واقعات کی مثالیں موجود نہیں ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں سے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔

سی پی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تہران میں قائم میڈیا کورٹ میں پچھلے مہینے مقدمہ چلایا گیا تھا، جس میں عدالت نے اس انٹرویو کے رپورٹر اور مجددی کو بری الزمہ قرار دے دیا تھا۔

ایسنا سے مراد 'ایرانی سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی' ہے۔ اس کا قیام 1999 میں عمل میں آیا تھا۔ اگرچہ یہ عمومی طور پر ایک آزاد ادارہ ہے۔ لیکن، دوسری غیر سرکاری نیوز ایجنسیوں کی طرح یہ ایجنسی بھی حکومت کے لائسنس کے تحت کام کرتی ہے۔

ایران میں صحافیوں کو حکام کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات انہیں اپنے پیشہ ورانہ کام کی بنا پر قید بھی بھگتنا پڑتی ہے۔

غیر ملکی صحافیوں کو، خاص طور پر یورپی میڈیا کے ساتھ کام کرنے والوں کو بھی قید میں ڈالا جاتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG