رسائی کے لنکس

logo-print

ایران میں بدامنی کے ذمہ دار ایران کے دشمن ہیں: آیت اللہ خامنائی


فائل فوٹو

تہران کی عدالتِ انقلاب کے سربراہ جج موسیٰ غضنفر آبادی نے کہا ہے کہ مظاہرین کی فردِ جرم میں "محاربہ" (خدا کے خلاف جنگ چھیڑنے)کا الزام بھی شامل ہوگا جس کی ایران کے قانون میں سزا موت ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی نے ملک بھر میں جاری مظاہروں کا ذمہ دار اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک میں بدامنی پھیلانے کیلئے پیسہ، ہتھیار اور اپنی خفیہ سروس کا استعمال کر رہے ہیں۔

ایران کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں مزید نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد پانچ روز سے جاری مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 20 سے تجاوز کرگئی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے منگل کو بتایا ہے کہ پیر کو سارا دن اور رات گئے جاری رہنے والے مظاہروں کےشر کا اور پولیس کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق پیر کو سب سے زیادہ ہلاکتیں قھدریجان کے قصبے میں ہوئیں جہاں مظاہرین نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا اور ہتھیار لوٹنے کی کوشش کی۔

حکام کے مطابق پولیس اسٹیشن پر حملے اور پولیس کی جوابی کارروائی میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق مظاہروں کے دوران خمینی شہر نامی قصبے میں ایک 11 سالہ لڑکا اور ایک 20 سالہ نوجوان مارے گئے جب کہ نجف آباد کے قصبے میں ایرانی فوج 'پاسدارانِ انقلاب' کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ تینوں افراد کو شکاری رائفلوں کی گولیاں لگی ہیں جو ایران کی دیہی علاقوں میں خاصی عام ہیں۔

پیر کو جن قصبوں میں ہلاکتیں ہوئی ہیں وہ تمام کے تمام دارالحکومت تہران سے 350 کلومیٹر جنوب میں واقع اصفہان کے صوبے میں واقع ہیں۔

ایران میں مظاہروں کا حالیہ سلسلہ جمعرات کو مشہد سے شروع ہوا تھا جہاں خراب معاشی صورتِ حال اور مہنگائی کے خلاف سیکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا تھا۔

بعد ازاں مظاہروں کا سلسلہ ایران کے دیگر شہروں تک بھی پھیل گیا تھا اور مہنگائی کے خلاف ہونے والے اس احتجاج نے حکومت مخالف احتجاج کا روپ دھار لیا تھا۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ کئی مقامات مظاہروں کے دوران صدر حسن روحانی کی حکومت کے علاوہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے۔

ایرانی حکام نے مظاہرین سے سختی سے نبٹنے کا انتباہ دیا ہے جب کہ منگل کو تہران کی ایک عدالت کے جج نے خبردار کیا ہے کہ مظاہروں کے دوران گرفتار کیے جانے والے بعض افراد کو موت کی سزائیں بھی سنائی جاسکتی ہیں۔

تہران کی عدالتِ انقلاب کے سربراہ جج موسیٰ غضنفر آبادی نے کہا ہے کہ مظاہرین کی فردِ جرم میں "محاربہ" (خدا کے خلاف جنگ چھیڑنے)کا الزام بھی شامل ہوگا جس کی ایران کے قانون میں سزا موت ہے۔

تہران کی عدالتِ انقلاب عموماً ایرانی حکومت کے خلاف مبینہ بغاوت کی کوششوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔

پانچ روز سے جاری مظاہروں کے دوران اب تک سیکڑوں افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں لیکن اس کے باوجود پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

حکام نے ملک بھر سے گرفتار کیے جانے والے افراد کے اعداد و شمار تو جاری نہیں کیے ہیں لیکن صرف دارالحکومت تہران سے 350 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

صدر حسن روحانی اور ان کی حکومت کے کئی اعلیٰ وزرا اعتراف کرچکے ہیں کہ انہیں ملکی معیشت کی خراب صورتِ حال پر عوام کے غصے کا ادراک ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ مظاہروں کے دوران قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اب تک ہونے والے تقریباً تمام مظاہرے وزارتِ داخلہ کی پیشگی اجازت کے بغیر کیے گئے ہیں جو کہ ایرانی قانون کے تحت غیر قانونی حرکت کے زمرے میں آتے ہیں۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ صادق لاریجانی نے پیر کو اپنے ایک بیان میں حکام کو "فسادیوں" سے سختی سے نبٹنے کی ہدایت کی ہے اور ملک بھر میں موجودہ استغاثہ کے محکمے کے اہلکاروں سے حراست میں لیے جانے والے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG