رسائی کے لنکس

logo-print

ایران: خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں فوجی مشقوں کا اعلان


ایران کی طاقتور فورس پاسداران انقلاب کےنائب سربراہ نےکہاہے کہ ایران جمعرات سےآبنائے ہرمز کےقریب خلیج فارس میں اپنی بڑی فوجی مشقیں شروع کررہاہے۔


فوجی مشقوں سےمتعلق یہ اہم اعلان ایرانی ٹیلی ویژن کےایک نشریےمیں کیا گیا۔


پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ جنرل حسین سلامی نے ان فوجی مشقوں کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان جنگی مشقوں کا مقصد خلیج فارس اورآبنائےہرمز کی سیکیورٹی اورتوانائی اورعالمی معیشت کےلیےایک کلیدی گزرگاہ کےطورپراس کی اہمیت پرزوردینا ہے۔


دنیا کی لگ بھگ 40 فی صد پٹرولیم کی مصنوعات آبنائےہرمزسےگزرتی ہیں اور تہران نےدھمکی دی ہے کہ اگر اس پرحملہ کیا گیا تو وہ اسےبند کردے گا۔


جنرل سلامی نےکہا کہ ان مشقوں میں کئی فوجی صلاحیتوں کو پرکھا جائے گا۔


انہوں نے کہا کہ ان کی فورسزکئی قسم کے ہتھیاروں اورآلات کےساتھ ساتھ انٹیلی جینس، جنگ، سمندری کارروائیوں ، مواصلاتی نظاموں اورمیزائیل کےشعبوں کی صلاحیت اور ہتھیاروں کےانفرادی نظاموں کو بھی ٹسٹ کریں گے ۔


ایران پراس کےجوہری ہتھیاروں کی بنا پراقوام متحدہ نےپابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ امریکہ اورعالمی طاقتیں اس پرجوہری ہتھیاربنانے کاالزام عائد کرتی ہیں۔ ایران کا کہناہےکہ اس کاجوہری پروگرام شہری مقاصد کے لیے ہے۔


کئی مغربی ملک ایران کواس کےجوہری پروگرام پرمرکوزمذاکرات کی طرف واپس لانے کےلیے اس کے خلاف پابندیوں میں اضافے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔


تل ابیب میں میپاس سنٹر کے تجزیہ کار جاوید انفار کہتے ہیں کہ ایران کےحالیہ اقدامات جارحانہ اورنرم رویوں کے امتزاج کےمظہر ہیں۔


وہ کہتے ہیں کہ یہ تازہ اعلان مغرب کے لیے سختی اورنرمی کےامتزاج کی ایرانی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے ۔ ایرانی حکام کہہ رہے ہیں کہ اگر ان کی جانب سےمذاکرات کی پیش کش قبول نہیں کی گئی اوران پرپابندیاں عائد کی گئیں تو وہ آبنائے ہرمز کو کسی انداز میں بند کر سکتا ہے یا خلیج فارس میں سفر کی پابندیاں عائد کر سکتا ہے ۔

منگل کے روز دورے پر گئے ہوئے ترک وزیر خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایرانی وزیر خارجہ منو چہر متکی نے مغرب کی جانب سے جوہری ایندھن کے تبادلے کی تجویز پر عمل در آمد کے امکان کا اشارتاًذکرکیا تھا ۔

XS
SM
MD
LG