رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے معروف جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ سپرد خاک


جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا، 30 نومبر 2020

ایران کے معروف جوہری سائنس دان محسن فخری زاد کو پیر کے روز سپرد خاک کرنے کی رسومات ادا کر دیں گئیں۔ انہیں جمعے کے روز ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد ایرانی رہنماؤں نے بدلہ لینے کی دھمکیاں دی ہیں۔

ایران کے وزیر دفاع جنرل عامرحاتمی نے محسن فخری زادہ کی تدفین کے سلسلے میں وزارت دفاع میں ہونے والے ایک اجتماع میں کہا کہ فخری زادہ کی ہلاکت ایرانیوں کو مزید مضبوط اور پر عزم بنائے گی اور ان کا ملک اپنا کام زیادہ رفتار اور قوت سے جاری رکھے گا۔

جمعے کے روز مسلح افراد نے فخری زادہ کی کار پر اس وقت حملہ کیا تھا جب ایک دیہی قصبے ابسرد کے نزدیک سفر کر رہے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ایران کے انگریزی زبان کے پریس ٹی وی کی خبر میں کہا گیا ہے کہ جمعے کو محسن فخری کے قتل میں اسرائیلی ساختہ ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔

پریس ٹی وی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دہشت گرد حملے کے بعد جائے وقوعہ سے جو ہتھیار اکھٹے کئے گئے تھے، ان پر اسرائیلی ملٹری انڈسٹری کا لوگو موجود تھا۔

محسن فخری زادہ کی ہلاکت کا ملک بھر میں سوگ منایا گیا۔
محسن فخری زادہ کی ہلاکت کا ملک بھر میں سوگ منایا گیا۔

اُدھر یروشلم میں اسرائیلی عہدے داروں نے ان رپورٹس پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اسرائیل کے انٹیلی جنس کے وزیر ایلی کوہن نے ایف ایم 103 ریڈیو کو پیر کے روز بتایا کہ انہیں نہیں معلوم کہ کون اس کا ذمہ دار ہے۔

اس حملے کے ردعمل میں ایران کی پارلیمنٹ نے ایک بل کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے جو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایران میں کام کرنے سے روک سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن کو اپنا عہدہ سنبھالنے میں دو ماہ سے بھی کم مدت رہ گئی ہے، جو ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے کی جانب اشارہ کر چکے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

جب کہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG