رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کا آئى اے ای اے کے سربراہ پر تعصّب کا الزام


ایران کے جوہری توانائى کے پروگرام کے سربراہ نے اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی کے نئے سربراہ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں یہ کہتے ہوئے کہ ایجنسی اس بات تصدیق نہیں کرسکتی کہ ایران کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے، ایران کے خلاف تعصّب کا مظاہرہ کیا ہے۔

علی اکبر صالحی نے منگل کے روز کہا ہے کہ ایٹمی توانائى کی بین الاقوامی ایجنسی یا آئى اے ای اے کے سربراہ یُو کِیا امانو متعصّب ہیں اور ایران اُمید کرتا ہے کہ وہ اپنا روّیہ تبدیل کرلیں گے۔

امانو نے پیر کے رو وی آنا میں ایجنسی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کو بتایا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں پُر امن مقاصد کے لیے ہیں ۔ اس لیے کہ تہران ایجنسی کے ساتھ ” ضروری تعاون “ نہیں کررہا ہے۔

پچھلے مہینے امانو نے ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ ایران ہوسکتا ہے کہ کوئى جوہری بم تیار کرنے کی کوشش کررہا ہو، جیسا کہ مغربی ملکوں کو شُبہ ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پُر امن ہے اور اس کا مقصد سائینسی ریسرچ اور بجلی پیدا کرنے کے لیے ایندھن بنانا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ منو چہر متّکی نے کہا ہے کہ تہران نے آئى اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے اور وہ آئندہ بھی ایسا ہی کرتا رہے گا۔

روسی صدر دمتری مَیڈ وی ڈَیف نے پیر کے روز کہا ہے کہ اگر ایران کو سمجھا بُجھا کر یورینیم کو افزودہ کرنے سےباز رکھنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں تو اُن کا ملک اُس کے خلاف نئى پابندیوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

امریکہ اور مغربی ممالک ایران کے خلاف نئى پابندیوں کے لیے روس اور چین کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جو دونوں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں وِیٹو کے اختیار والے مستقل رُکن ہیں۔

اسی مسئلے پر چین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے امریکی عہدے دار منگل کے روز پیچنگ پہنچے ہیں۔لیکن چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ابھی تک سفارت کاری کی گنجائش موجود ہے ۔ اور اُس نے تمام فریقوں پر زود دیا ہے کہ وہ سفارتی کوششوں کو دو چند کردیں۔

XS
SM
MD
LG