رسائی کے لنکس

logo-print

مغربی طاقتیں ، جوہری ایندھن کے تبادلے کے ایرانی پروگرام کو مسئلے کا حل نہیں سمجھتیں


مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ترکی کے ساتھ افزودہ یورینیم کے تبادلے کا معاہدہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام خدشات کو دور نہیں کرتا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ تہران ترکی کے ساتھ اپنی 1200 کلوگرام کم افزودہ یورینیم کا تبادلہ جوہری ایندھن کے معیار کی زیادہ افزودہ یورینیم سے کرنے کے معاہدے پر راضی ہوگیا ہے۔

برطانیہ کے نائب وزیر خارجہ ایلسٹائر برٹ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ پابندیوں کے چوتھے مرحلے پر اس وقت تک کام جاری رہنا چاہیے جب تک تہران بین الاقوامی کمیونٹی کو یہ یقین نہیں دلادیتا کہ اس کا جوہری پروگر ام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان برناڈ والیرو نے کہا ہے کہ مصالحت کاروں کو اس معاہدے سے خود کو یہ دھوکہ نہیں دینا چاہیے کہ اس سے ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ تمام مسائل حل ہوسکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کہ مسئلے کی جڑ موجود ہے جس میں ایران کی نطنز جوہری تنصیب میں یورینیم کی افزودگی کی سرگرمیاں اور اس کے جوہری پروگرام پر موجود سوالات ، جن کے بارے میں اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کو کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

برطانیہ اور فرانس اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مستقل رکن ہیں۔

XS
SM
MD
LG