رسائی کے لنکس

logo-print

’عالمی طاقتوں سے بات کر رہے ہیں، ناکہ امریکی قانون سازوں سے‘


صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ، ’ایران اس وقت تک حتمی ایٹمی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا، جب تک اس پر عائد تمام پابندیاں نہ اٹھالی جائیں‘

ایرانی صدر حسن روحانی نے عالمی برادری کے ساتھ ایٹمی معاہدے میں امریکی پارلمنٹ کی ’دخل اندازی‘ کو مسترد کر دیا ہے۔

ایرانی صدر نے منگل کو واشنگٹن میں پیش آنے والے اس معاملے پر ردعمل دے رہے تھے، جس کے مطابق، صدر اوباما کو دستخط کے لئے ایک بل پیش کیا گیا تھا، جس مسودہ قانون میں ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کانگریس کے جائزے سے مشروط کیا گیا ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک دنیا کی چھ بڑی طاقتوں سے مذاکرات کررہا ہے، نا کہ امریکی قانون سازوں سے۔

ایران کے شمالی شہر راشت میں ہزاروں ایرانیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب میں صدر روحانی نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ ایران اس وقت تک حتمی ایٹمی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا، جب تک اس پر عائد تمام پابندیاں نہ اٹھالی جائیں۔

منگل کو سینیٹ کی خارجہ کمیٹی نے دو طرفہ اتفاق رائے کے بعد ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں ایران کے ایٹمی معاہدے کی منظوری کے لئے پارلیمنٹ کے جائزے کے لئے 30 دن دینے اور صدر کو تین ماہ کے اندر اس بات کی تصدیق کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ صدر کو اس بات کی تصدیق کرنا ہوگی آیا ایران معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کر رہا ہے؛ اور اگر خلاف ورزیاں پائی گئیں تو کانگریس کی جانب سے خودبخود پابندیاں عائد ہوجائیں گی۔

امریکی وزیر خارجہ، جان کیری نے بدھ کو اس یقین کا اظہار کیا کہ صدر اوباما کی جانب سے کانگریس کی روک پر دستخط کے بعد ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ ہوجائے گا۔ وہ جرمنی میں سات وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے بات چیت کر رہے تھے، جس میں معاہدے کا فریم ورک تیار کیا گیا تھا۔

اُن کے بقول، ’ہمیں اپنی صلاحیتوں پر یقین ہے، جس کی مدد سے ہم دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے کوشاں ہیں‘۔‘

جرمنی کے شہر لیوبک میں یورپی یونین کی پالیسی سربراہ، فریڈیکا موگیرنی نے اس موقع پر کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکی حکام اور قانون ساز دنیا میں سیکوریٹی کے نقطہ نظر سے اس معاہدے کی اہمیت کو سجھیں گے۔ ’یہ ضروری ہے۔ اس اہم کام کے لئے جس کی تفصلات پر ابھی کام ہورہا ہے اور رواں ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ حتمی ایٹمی معاہدے پر پہنچنے کی توقع ہے‘۔

صدر اوباما نے منگل کو واضح کیا ہے کہ وہ اس بل پر دستخط کریں گے، جس کے تحت کانگریس سے منظوری کے بعد ہی ایٹمی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے گی۔

ریپبلکنز کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ قانون سازوں کی آواز کو بھی معاہدے میں شامل کیا جائے۔

لیکن، صدر اوباما اور وزیر خارجہ جان کیری کا موٴقف رہا ہے کہ ان کے مطالبے پر عملدرآمد کے نتیجے میں ایران کو مذاکرات سے فرار کا موقع مل جائے گا۔

ایران کا اصرار رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرآمن مقاصد کے لئے ہے۔

XS
SM
MD
LG