رسائی کے لنکس

logo-print

روس، ایران ہتھیاروں کا معاہدہ جاری


روس کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ تہران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی نئی تعزیرات سےایران کےساتھ زمین سےفضا میں مار کرنے والے S-300میزائلوں کی فراہمی کا سمجھوتا متاثرنہیں ہوتا۔

وزارتِ خارجہ کےترجمان آندرے نیس تیرینکو نے کہا کہ بدھ کےروزمنظور ہونے والی اقوامِ متحدہ کی قرارداد، ماسوائے پورٹیبل میزائلوں کے، طیارہ شکن نظاموں پر نافذ العمل نہیں ۔

اُنھوں نے یہ بیان جمعرات کو روس کےانٹرفیکس خبررساں ادارے کے ساتھ ہتھیاروں کی فروخت پرنگرانی کرنے والے روسی ادارے (وفاقی ادارہ برائے تکنیکی فوجی تعاون) سے وابستہ ایک گمنام عہدے دار کے توسط سے دی گئی خبر کے بعد جاری کیا۔ اُس خبر میں کہا گیا تھا کہ نئی تعزیرات کے سبب روس، میزائلی نظام ایران کو فروخت کرنے کے معاہدے کو منجمد کر رہا ہے۔

تاہم، دیگر روسی خبررساں ادارے میخائل دِمتری ئیف کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد سے سمجھوتے پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور معاہدے پر کام جاری ہے۔

ایران کو میزائل فروخت کرنے کی غرض سےروس نے 2007ء میں ایک معاہدے پر دستخط کیےتھے، جِس سے ایران کی دفاعی صلاحیتوں میں اہم اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم، کوئی میزائل فراہم نہیں کی گئی ہے۔

جمعرات کی بریفنگ میں امریکی محکمہٴ خارجہ کےترجمان فلپ کراؤلی نےتوجہ دلائی کہ اقوامِ متحدہ کی نئی قرارداد کا S-300معاہدے پر اطلاق نہیں ہوتا۔

لیکن اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کو اِس بات کی قدر ہے کہ روس نے یہ میزائل نہ بھیج کر تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG