رسائی کے لنکس

logo-print

ایران: اگست تک جوہری مذاکرات سے انکار


ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہاہے کہ ان کاملک، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے باعث اگست تک اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات نہیں کرے گا ۔

مسٹر احمدی نژاد نے پیر کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس تاخیر کا مطلب ایک سزا کے طورپر مغربی اقوام کو یہ سبق سکھانا ہے کہ ایران کے ساتھ کس طرح مذاکرات منقعد کیے جائیں۔

اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارےمیں امریکی ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے تبصرے ’نفسیاتی جنگ‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے پیر کے روز تہران میں یہ بیان ، سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینٹا کے اس دعویٰ کے ایک روز بعد جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ایران کے پاس اتنا جوہری مواد موجود ہے جس سے وہ دو سال کے اندر دو ایٹم بم بنا سکتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پینٹا کے تبصروں کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں منفی تاثر پھیلانا تھا ۔ جب کہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے اتوار کے روز ایک امریکی ٹیلی ویژن اے بی سی کے ایک پروگرام کہا تھا کہ ایران کے خلاف نافذ کی گئی اقتصادی پابندیاں اسے جوہری ہتھیار بنانے کے اپنی کوششوں سے باز نہیں رکھ سکتیں۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل ، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے لگائی جانے والی تازہ پابندیاں ایران کے لیے شدید اقتصادی مسائل پیدا کرسکتی ہیں اور اس کی حکومت کو کمزور کرسکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG