رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کا معاملہ ہنوز حل طلب


ایران کے وزیر خارجہ ظریف اور ان کے نائب روانچی

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر جوہری مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو دنیا یہ دیکھے گی کہ تہران نے سب سے بڑے سیاسی مسئلے کو مذاکرات اور منطقی دلائل کے ذریعے حل کیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی حتمی معاہدے پر اتفاق کے لیے سرگرداں مذاکرات ہفتے کو نصف شب تک مصروف رہے لیکن تاحال بیل کسی منڈھے نہیں چڑھ پائی ہے۔

ویانا میں ہونے والے مذاکرات تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور اس بات چیت سے واقفیت رکھنے والے بعض لوگوں نے خیال ظاہر کیا تھا کہ اتوار کو علی الصبح کوئی اعلان ہو سکتا ہے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

مذاکرات میں شامل امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی اور ایران کے اپنے ہم منصب محمد جواد ظریف کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے خدوخال پر عرق ریزی کی۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی کے مذاکراتکاروں کے ایران کے ساتھ کسی حتمی معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات کی حتمی تاریخوں میں دو بار توسیع ہو چکی ہے۔

یہ عہدیدار ایک ایسے معاہدے کے لیے کام کر رہے ہیں جس کے تحت ایران کو اپنا جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے عوض پابندیوں سے آزاد کیا جا سکے۔

ادھر ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر جوہری مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو دنیا یہ دیکھے گی کہ تہران نے سب سے بڑے سیاسی مسئلے کو مذاکرات اور منطقی دلائل کے ذریعے حل کیا ہے۔

ایران کی ایک خبر رساں ایجنسی "نسیم" کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ "اگر بات چیت ناکام بھی ہو جاتی ہے، تو ہماری سفارتکاری نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم منطق سے بات کرتے ہیں، ہم مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹے اور ہمیشہ بہترین جواب دیا۔"

فرانس کے وزیر خارجہ لوراں فابیوس نے اپنے ایک بیان میں بظاہر امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ ایک ایسے میں جب تمام معاملات میز پر ہیں "وقت آگیا ہے کہ فیصلہ کیا جائے۔"

XS
SM
MD
LG