رسائی کے لنکس

logo-print

ایران جوہری پروگرام، مذاکرات کے نئے دور کا آغاز


نیویارک میں ہونے والی اِس بات چیت میں ایران، امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنے کے عہدے دار شریک تھے

ایران اور چھ عالمی طاقتوں نے جمعے کے روز مذاکرات کےنئے مرحلے کا آغاز کیا، جِن میں نیوکلیئر پروگرام ترک کرنے کے عوض تعزیرات میں کمی کیےجانے کے ضمن میں ایران کو مراعات کی پیش کش کا معاملہ زیرِ غور آیا۔

نیویارک میں ہونے والی اِس بات چیت میں ایران، امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنے کے عہدے دار شریک تھے۔

ایران نے کہا ہے کہ وہ جوہری سمجھوتا طے کرنے پر پُر عزم ہے۔ لیکن، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں پیش رفت کے امکانات بہت کم ہیں، جب کہ 24 نومبر کی ڈیڈلائن دور نہیں، جس سے دونوں فریق نے سمجھوتے میں ناکامی کے بعد اتفاق کیا تھا۔

اس سے قبل، اِسی ہفتے، امریکی اور ایرانی سفارت کاروں نے ایران کے جوہری عزائم پر باہمی مذاکرات کیے۔

دونوں فریق نے گذشتہ سال ایک عبوری سمجھوتا طے کیا تھا، جس کا مقصد ایران کی طرف سے یورینئیم کی افزودگی کو ترک کرنے کے بدلے امریکی تعزیرات میں کمی کے لیے کہا گیا تھا۔


ایران یورینئم کی افزودگی کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کی کوششیں کر رہا ہے، جس کے بارے میں اُس کا کہنا ہے کہ اس سے بجلی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ امریکہ اور اُس کے دیگر اتحادیوں کا خیال ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG