رسائی کے لنکس

 ایران اور روس ویانا جوہری مذاکرات میں پیش رفت کے لیے پر امید 


ویانا کا ہوٹل 'پیلس کوبرگ' جہاں 27 دسمبر 2021 کو ایران جوہری معاہدے پر بات چیت کا دوبارہ آغاز ہوا۔
ویانا کا ہوٹل 'پیلس کوبرگ' جہاں 27 دسمبر 2021 کو ایران جوہری معاہدے پر بات چیت کا دوبارہ آغاز ہوا۔

ایران اور روس نے کہا ہے کہ وہ ایران جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے ویانا میں ہونے والے مذاکرات کے نئے دور میں منگل کو ہونے والی پیش رفت سے پرامید ہیں۔

منگل کے روز ایران نے کہا کہ اگر فریق نیک نیتی کا مظاہرہ کریں تو اس معاہدے پر اتفاق رائے ممکن ہے، جبکہ روس کے ایک مذاکرات کار نے "نا قابل تردید" پیش رفت کا عندیہ دیا۔

ایران اور امریکہ نے پیر کے روز بالواسطہ بات چیت کا آغاز کیا تھا۔ ایران نے زور دیا کہ اولین جوہری معاہد ے میں کئے گئے اتفاق رائے کے مطابق، ایران پر عائد پابندیوں کو اٹھالیا جائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران یہ مطالبہ اس بات کے باوجود کر رہا ہے کہ اس نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے کی طرف کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے تہران میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ بات چیت درست سمت کی جانب جاری ہے۔

انہوں نے کہا: "ہم سمجھتے ہیں کہ اگر دوسرے فریق مذاکرات کا دور جاری رکھیں، جو ابھی نیک نیتی کے ساتھ شروع ہوا ہے، تو تمام فریقوں کے لیے ایک اچھے معاہدے تک پہنچنا ممکن ہو گا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اگر نیک نیتی کے ساتھ ساتھ سنجیدگی بھی دکھائی جائے تو جلد ہی مستقبل قریب میں اتفاق رائے حصول ہو سکے گا۔

ادھر روس کے نمائندہ میخائل الیانوف نے ٹویٹر پر کہا: "ہم ناقابل تردید پیش رفت کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔"

کیا ایران جوہری معاہدے پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:37 0:00

اس سلسلے میں انہوں نےیہ بھی کہا کہ غیر رسمی ماحول میں مذاکرات کے ایک ورکنگ گروپ میں ایران پر پابندیاں ہٹانے سے متعلق تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ بات چیت کا ساتواں راونڈ گیارہ دن قبل اختتام پذیر ہوا تھا جس میں ایران کی طرف سے کچھ نئے مطالبات کو معاہدے کے مجوزہ متن میں شامل کیا گیا۔

جوہری معاہدے پر ہونے والی بات چیت کے حوالے سے مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ جون میں ایران کے سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی کے منتخب ہونے کے بعد پہلی بار مذاکرات میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کاروں کے پاس 2015 کے معاہدے کے بے معنی ہونے سے بچانے کے لیے مہینے نہیں بلکہ ہفتے باقی ہیں۔

سن 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کو اس معاہدے سے الگ کرلیا تھا اور ایران پر پھر سے پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اس کے بعد ایران نے اس معاہدے کے تحت عمل میں آنے والی جوہری پابندیوں میں سے بہت سی خلاف ورزیاں کیں اور معاہدے میں طے کردہ حدود سے کہیں آگے نکل گیا۔

خیال رہے کہ ایران نے امریکی حکام سے براہ راست ملنے سے انکار کر رکھا ہے جس کے باعث معاہدے میں شامل دوسرے فریق یعنی روس، چین، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور یورپی یونین ان دو ممالک یعنی ایران اور امریکہ کے درمیان پیغام رسانی اور بالواسطہ روابط کا کام کرتے ہیں۔

امریکہ نے کئی بار اس انداز کے مذاکرات پر مایوسی کا اظہارکیا ہے، کیونکہ اس کے بقول، یہ مذاکراتی عمل کو سست بناتا ہے۔ مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران محض وقت کی خاطر اس طریقہ کار کو اپنائے ہوئے ہے۔

درین اثنا ایرانی میڈیا نے منگل کے روز کہا کہ ایران کے صدر رئیسی سن 2022 کے اوائل میں صدر ولادی میر پوٹن کی دعوت پر روس کا دورہ کریں گے۔

(خبر کا مواد رائٹرز سے لیا گیا)

XS
SM
MD
LG