رسائی کے لنکس

logo-print

مغرب ایک مہینے کے اندر اندر شرائط مان لے، ایران



ایران نے کہا ہے جوہری ایندھن پر سمجھوتے کی خاطر تہران کی شرائط کو قبول کرنے کے لیے مغرب کے پاس ایک مہینے کی مہلت ہے، جس کے بعد ایران خود اپنا ایندھن بنانا شروع کردے گا۔

ایران کے وزیرِخارجہ منوچہر متّکی نے ہفتے کے روز ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر اس الٹی میٹم کا اعلان کیا ہے۔

تہران نے اپنی تجویز پیش کرنے سے پہلے ایک ایسے مجوزہ سمجھوتے کو ردّ کردیا تھا جسے اقوامِ متحدہ کی حمایت حاصل تھی۔ اُس سمجھوتے میں کہا گیا تھا کہ ایران اپنے بیشتر یورینیم کو افزودہ بنانے اور ایندھن کی سلاخوں میں تبدیل کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک کو بھیجے گا، اور پھر اُن سلاخوں کو ریسرچ کے لیے مخصوص تہران کے جوہری ری ایکٹر میں استعمال کیا جاسکے گا۔

اس انتظام کا مقصد ایران میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم کرکے اُس کی جوہری بم بنانے کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔

لیکن ایران کی تجویز میں کہا گیا ہے کہ وہ اوّل تو جوہری ایندھن مغرب سے خریدے گا اور اگر یورینیم سے ایندھن کی سلاخوں کا تبادلہ ہوا بھی تو یہ تبادلہ کم مقدار میں ہوگا۔

مغرب کے شکوک و شبہات کے باوجود ایران کا اصرار ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام صرف پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔

وزیرِ خارجہ متّکی نے کہا ہے کہ اگر مغرب نے ایران کے مطالبات قبول نہ کیے تو ایران اپنے یورینیم کو 20 فیصد تک افزودہ کرےگا۔ یہ افزودگی کی وہ سطح ہے جو ریسرچ ری ایکٹر کوایندھن فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

کسی جوہری ہتھیار میں استعمال کرنے کے مقصد سے یورینیم کو 90 فیصد تک افزودہ کرنا پڑتا ہے۔

XS
SM
MD
LG