رسائی کے لنکس

logo-print

ایران پر دباؤ ڈالا جائے، امریکی محکمہٴ خزانہ کا نجی شعبے پر زور


امریکی محکمہٴ خزانہ کے ایک اعلیٰ عہدےدارنےنجی کمپنیوں سے کہا ہےکہ سرکاری پابندیوں کےساتھ ساتھ ایسےمعاشی اقدامات تلاش کریں جِن کی مدد سے ایران کو اُس کے جوہری پروگرام ترک کرنے پرمجبورکیا جاسکے۔

خزانے سے متعلق عہدےدار اسٹورٹ لیوی نے منگل کو کہا کہ تہران کے خلاف دباؤ بڑھانےمیں نجی شعبہ ایک کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔

اُن کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ارکانِ کانگریس ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف امریکی معاشی پابندیوں کو مؤثر بنانے کی کوشش میں ہیں۔ ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں متعدد ملکوں کو شبہ ہے کہ اِس کا مقصد ہتھیار بنانا ہے۔

کانگریس کے مذاکرات کاروں نے بتایا ہے کہ ایران کے مالیاتی ساجھے داروں کو ہدف بنانے کی خاطر اُنھوں نے ایک نیا یک طرفہ سمجھوتہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام ، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے ایران کے خلاف حال ہی میں منظورکی جانے والی پابندیوں کے چوتھے دور کے علاوہ ہے۔

امریکہ کے اِس مجوزہ سمجھوتےکا اعلان بینکاری پرسینیٹ کی کمیٹی کے چیرمین کِرس ڈوڈ، اور ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیرمین ہووارڈ برمن نے پیر کے روز کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِس اقدام کی رو سے سارے غیر ملکی بینک جو کلیدی ایرانی اداروں یا پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں اُن کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی ختم ہو جائے گی۔

XS
SM
MD
LG