رسائی کے لنکس

logo-print

ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ گیا


ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ گیا

امریکی اخبارات نے کہا ہے کہ جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کو فراہم کی جانے والی خفیہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیاربنانے والی ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے اتوار کی شب خبر شائع کی ہے کہ خفیہ معلومات کا جائزہ لینے والے مغربی سفارت کاروں اور جوہری ماہرین کا خیال ہے کہ ایران نے غیرملکی سائنسدانوں کی مدد سےتکنیکی شعبے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارے، آئی اے ای اے، کے سابق عہدے دار ڈیوڈ البرائٹ نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ہے کہ ایران میں اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت میں دھماکا خیز کیپسول کا نقشہ شامل ہے جس کی مدد سے جوہری دھماکا کیا جاتا ہے۔

اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اطلاع دی ہے کہ خفیہ معلومات کی تفصیلات جن عہدے داروں کی دی گئی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایران میں ایک ایسی تنصیب موجود ہے جو ان کا ماننا ہے کہ جوہری ہتھیار کا تجربہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

آئی اے ای اے اس ہفتے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنی رپورٹ جاری کرے گی۔ ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ احمد خاتمی نے پیر کے روزبین الاقوامی تنظیم کومتنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ جاری نہ کرے کیونکہ یہ اقدام عالمی ادارے کی ساکھ کو خراب کرے گی۔

مغربی طاقتوں کا شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے اور اُنھوں نے تہران کو ان کوششوں سے باز رکھنے کے لیے ایران پر پابندیاں بھی لگا رکھی ہیں۔ ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ اُس کی جوہری سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے ہیں۔

اسرائیل کے صدر شمون پیرز نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ بین الاقوامی برادری ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کو سفارتی ذرائع کی بجائے اب فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوششوں کے قریب ہوتی جا رہی ہے۔

اُنھوں نے اس ضمن میں عالمی رہنماؤں سے اپنے وعدے پورے کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اسرائیلی رہنما نے یہ بیان صدر براک اوباما کے اس بیان سے ایک روز بعد دیا تھاجس میں امریکی رہنما نے ایران کے جوہری پروگرام کو ایک مسلسل خطرہ قرار دیتے ہوئے تہران پر زور دیا تھا کہ وہ ایٹمی توانائی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

XS
SM
MD
LG